
نئی دہلی، 24 جولائی(ہ س)۔کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے نیٹ پرچہ لیک معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی کے ویڈیو پیغام کے بعد کہا ہے کہ وزیراعظم کو پارلیمنٹ کے باہر یکطرفہ بیان دینے کے بجائے ایوان میں آکر جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم پارلیمنٹ میں آنے سے پہلے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو برطرف کریں، طلبہ سے معافی مانگیں اور طلبہ پر لاٹھی چارج اور پیلیٹ گن کے استعمال کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں۔
کھڑگے نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہو تو وزیراعظم کو اپنا بیان پارلیمنٹ کے اندر دینا چاہیے، نہ کہ رات گئے ویڈیو جاری کرکے ایوان سے باہر اپنی بات رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو ایوان میں آنے سے پہلے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا چاہیے۔
کانگریس صدر نے راہل گاندھی کی جانب سے اٹھائے گئے مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا کہ حکومت پہلے طلبہ سے عوامی طور پر معافی مانگے اور پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج اور پیلیٹ گن کے استعمال کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ اس کے بعد ہی تعلیمی نظام میں اصلاحات اور امتحانی نظام پر تفصیلی بحث کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کی رات جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ پرچہ لیک کے واقعات روکنے کے لیے حکومت نے گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران کئی اہم اقدامات کیے ہیں اور اس معاملے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکام نے پرچہ لیک کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام اور قصورواروں کو سخت سزا دلانے سے متعلق ایک مسودہ تیار کیا ہے، جس پر جمعہ کو مرکزی کابینہ کے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ تجاویز شامل کرنے کے بعد اسے حتمی شکل دے کر جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan