شیئر مارکیٹ میں کیلیبر مائننگ کی شاندار شروعات، آئی پی او سرمایہ کاروں کو زبردست فائدہ
نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔ کول مائننگ سیکٹر میں خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کیلیبر مائننگ اینڈ لاجسٹکس کے شیئرز نے جمعہ کو شیئر مارکیٹ میں مضبوط آغاز کرتے ہوئے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو اچھا منافع دیا۔ کمپنی کے شیئرز آئی پی او میں 424 روپے فی
شیئر مارکیٹ میں کیلیبر مائننگ کی شاندار شروعات، آئی پی او سرمایہ کاروں کو زبردست فائدہ


نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔ کول مائننگ سیکٹر میں خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کیلیبر مائننگ اینڈ لاجسٹکس کے شیئرز نے جمعہ کو شیئر مارکیٹ میں مضبوط آغاز کرتے ہوئے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو اچھا منافع دیا۔ کمپنی کے شیئرز آئی پی او میں 424 روپے فی شیئر کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے، جبکہ لسٹنگ کے وقت این ایس ای پر یہ 17.98 فیصد اضافے کے ساتھ 500.25 روپے اور بی ایس ای پر 18.87 فیصد اضافے کے ساتھ 504 روپے پر درج ہوئے۔

ابتدائی خریداری کے دوران شیئر کی قیمت 510 روپے تک پہنچ گئی، تاہم بعد میں منافع وصولی کے باعث اس میں کچھ کمی آئی۔ دوپہر11:30 بجے تک کمپنی کا شیئر 486.95 روپے پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو آئی پی او قیمت کے مقابلے میں 62.95 روپے یا 14.85 فیصد زیادہ ہے۔

450 کروڑ روپے مالیت کا کمپنی کا آئی پی او 17 سے 21 جولائی تک سرمایہ کاری کے لیے کھلا تھا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے اسے بھرپور ردعمل ملا۔ یہ آئی پی او مجموعی طور پر 108.26 گنا سبسکرائب ہوا۔ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (کیو آئی بی) کے لیے مختص حصہ 253.88 گنا، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کا حصہ 281.99 گنا جبکہ ریٹیل سرمایہ کاروں کا حصہ 43.40 گنا سبسکرائب ہوا۔

آئی پی او کے تحت کمپنی نے 1,06,13,206 شیئرز جاری کیے، جن میں 94,33,962 نئے شیئرز کے ذریعے تقریباً 400 کروڑ روپے جمع کیے گئے، جبکہ 11,79,244 شیئرز آفر فار سیل(او ایف ایس) کے تحت فروخت کیے گئے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ نئی رقم پرانے قرضوں کی ادائیگی، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے اور دیگر کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کی جائے گی۔

کمپنی کی مالی کارکردگی بھی مسلسل بہتر ہوئی ہے۔ 2023-24 میں کمپنی کا خالص منافع 95.90 کروڑ روپے تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 131.55 کروڑ روپے اور 2025-26 میں 157.90 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

اسی طرح کمپنی کی آمدنی 957.92 کروڑ روپے سے بڑھ کر 1,435.57 کروڑ روپے اور پھر 1,684.66 کروڑ روپے تک جا پہنچی۔ اگرچہ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر کمپنی کے قرض میں اضافہ ہو کر 1,057.61 کروڑ روپے ہو گیا، تاہم اس دوران کمپنی کی نیٹ ورتھ، ریزرو اور ای بی آئی ٹی ڈی اے میں بھی مسلسل نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس کی مضبوط مالی بنیادوں کی عکاسی کرتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande