حیدرآباد، ایس آئی آر مہم کے فارمس ڈیجیٹلائزیشن کرنے میں بھی پیچھے
حیدرآباد، ایس آئی آر مہم کے فارمس ڈیجیٹلائزیشن کرنے میں بھی پیچھےحیدرآباد، 24 جولائی (ہ س)۔ سنٹرل الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹرلسٹوں کی خصوصی نظرثانی ایس آئی آرمہم میں ریاست کے دارالحکومت ضلع حیدرآباد کارکردگی کے لحاظ سے ریاست کے دیگراضلاع کے مقاب
حیدرآباد ،ایس آئی آر مہم کے فارمس ڈیجیٹلائزیشن کرنے میں بھی پیچھے


حیدرآباد، ایس آئی آر مہم کے فارمس ڈیجیٹلائزیشن کرنے میں بھی پیچھےحیدرآباد، 24 جولائی (ہ س)۔

سنٹرل الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹرلسٹوں کی خصوصی نظرثانی ایس آئی آرمہم میں ریاست کے دارالحکومت ضلع حیدرآباد کارکردگی کے لحاظ سے ریاست کے دیگراضلاع کے مقابلے میں بری طرح پیچھے رہ گیا ہے۔ جس طرح بوتھ لیول آفیسرس نے فارمس کی گھرگھرتقسیم میں سست روی کامظاہرہ کیاتھا وہی لاپرواہی اورسستی اب وصول شدہ فارمس کوآن لائن ڈیجیٹلائزیشن کرنے میں بھی نظرآرہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جہاں ریاست کے دیگراضلاع میں ڈیجیٹلائزیشن کا تناسب 80 سے 90 فیصد تک پہونچ چکاہے۔ وہیں حیدرآباد میں فارمس کے ڈیجیٹلائزیشن کی شرح 50 فیصد کا ہندسہ بھی عبورنہیں کرسکی۔ اس صورتحال پرشہریوں اورمختلف سیاسی وسماجی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے۔عوامی حلقوں کاکہنا ہے کہ اعلیٰ عہدیدارصرف روزانہ کے جائزوں اوراشتہاربازی تک محدود ہیں جب کہ فیلڈ سطح پرڈیٹاانٹری کے کام کوتیزکرنے کےلیے کوئی ٹھوس اورعملی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ مقررہ شیڈول کے مطابق ایس آئی آرمہم کے تحت اینومریشن فارمس جمع کرانے اورآن لائن پروسیس کرنے کی آخری تاریخ 3 اگست 2026 ہے۔جس میں اب صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں جس سے شہریوں میں الجھن اور خدشات دیکھے جارہے ہیں۔ کئی شہریوں نے بتایا کہ بی ایل اوزنے گھروں پرآکرفارمس تودے دئیے لیکن وہ انہیں واپس کب لے جائیں گے اورپورٹل پرکب آن لائن کریں گے اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے ۔ ہمیں ڈرہے کہ اگرآخری تاریخ ختم ہوگئی اورہمارے فارمس ڈیجیٹلائزنہ ہوئے توہم اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہوجائیں گے۔ عوامی اور سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جی ایچ ایم سی اور ضلع الیکشن حکام فوری طور پر بیدار ہوں ہر سرکل اور وارڈ کی سطح پر اضافی عملہ مختص کریں تاکہ لاکھوں اہل ووٹرس کے نام ووٹنگ لسٹ میں برقرار رہ سکے ۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande