
جے پور، 24 جولائی (ہ س)۔راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے وزیراعلیٰ بھجن لال شرما کے پرچہ لیک سے متعلق دعووں پر سخت تنقید کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں گہلوت نے کہا کہ وزیراعلیٰ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے دورِ حکومت میں ایک بھی پرچہ لیک نہیں ہوا، جبکہ انہیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ کسی بھی شکایت کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں ہونے دی گئیں تاکہ حقیقت سامنے نہ آ سکے۔
گہلوت نے الزام لگایا کہ ملک کے سب سے بڑے امتحان نیٹ-یو جی کے پرچہ لیک کا مرکز راجستھان رہا، جس سے لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اور پولیس نے شکایات کو دبانے کی کوشش کی، جبکہ طلبہ کی جانب سے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو شکایت ملنے کے بعد ہی معاملہ سامنے آیا۔
سابق وزیراعلیٰ نے اپنی پوسٹ میں نول گڑھ میں آر اے ایس امتحان کا سوالیہ پرچہ کھلے لفافے میں ملنے، پروفیسر بھرتی امتحان کا سوالیہ پرچہ کھلی مہر کے ساتھ پہنچنے، جیسلمیر میں ایل ڈی سی بھرتی امتحان کے دوران مبینہ نقل کے معاملے، اور راجستھان ملازمین انتخابی بورڈ کے ایک تکنیکی افسر پر او ایم آر شیٹ تبدیل کرنے کے الزامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کرائی گئیں۔گہلوت نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے دور میں ہونے والے امتحانات کی شفاف تحقیقات سے بچ رہی ہے، کیونکہ اگر تحقیقات ہوئیں تو’ایک بھی پرچہ لیک نہیں ہوا‘ کا دعویٰ غلط ثابت ہو جائے گا۔
انہوں نے ایس آئی بھرتی امتحان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی سطح پر بھرتی منسوخ کرنے کا کریڈٹ لیتی رہی، جبکہ عدالت میں اسی حکومت نے بھرتی منسوخ نہ کرنے کی سفارش بھی کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جواب مانگنے والے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا گیا۔
کانگریس حکومت کے دور کا ذکر کرتے ہوئے گہلوت نے کہا کہ اس وقت پرچہ لیک مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی تھی۔ ان کے مطابق 400 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، مافیا کی جائیدادوں پر بلڈوزر چلایا گیا، راجستھان پبلک سروس کمیشن (آر پی ایس سی) کے ایک رکن کو بھی جیل بھیجا گیا، اور پرچہ لیک کے خلاف عمر قید، 10 کروڑ روپے جرمانہ اور جائیداد ضبطی جیسی سخت سزاؤں پر مشتمل قانون بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت آج جو بھی کارروائیاں کر رہی ہے، وہ اسی قانون کے تحت ممکن ہو رہی ہیں۔اپنی پوسٹ کے اختتام پر گہلوت نے بی جے پی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا:’فرق بالکل واضح ہے۔ ہم نے مافیا کی جائیدادوں پر بلڈوزر چلایا تھا، جبکہ آپ سچ پر بلڈوزر چلا رہے ہیں۔‘
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan