
۔ ایف ایس ڈی اے اتر پردیش نے کرائم برانچ غازی آباد کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائی کی
لکھنؤ، 24 جولائی (ہ س)۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے امین آباد میں برآمد نقلی فلوزن دوا کے سیمپل سے شروعہوئی جانچ نے آخر کار دہرادون میں چلنے والی ایک غیر قانونی دوا بنانے والی فیکٹری کا پردہ فاش کر دیا۔ فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ایس ڈی اے) اور کرائم برانچ، غازی آباد کی ایک مشترکہ ٹیم نے ڈیجیٹل شواہد اور موبائل چیٹ کی بنیاد پر پورے بین ریاستی نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا۔
مشترکہ ٹیم نے دہرادون میں ایک غیر قانونی نقلی ادویات بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ مارا اور تقریباً 1 کروڑ روپے کی نقلی ادویات، پیکیجنگ مواد اور جدید مشینری ضبط کی۔ اس مشترکہ کارروائی میں دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ گینگ کے دیگر کارندوں کی تلاش جاری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 19 جولائی کو لکھنؤ کے امین آباد پولیس اسٹیشن میں نقلی ادویات کے ذخیرہ اور فروخت کے سلسلے میں درج ایک کیس کے دوران 43 قسم کی نقلی ادویات برآمد کی گئی تھیں۔ ابتدائی تفتیش کے دوران حاصل کردہ دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر، ایف ایس ڈی اے ہیڈ کوارٹر نے ایک خصوصی انفورسمنٹ ٹیم تشکیل دی۔ ٹیم نے موبائل ڈیٹا، واٹس ایپ چیٹس، پیکیجنگ پیٹرن اور سپلائی چین کا تجزیہ کرکے پورے نیٹ ورک کے لنکس کو جوڑنا شروع کیا۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ گینگ کا اہم سپلائر راجندر سنگھ عرف ارون ٹنڈا غازی آباد میں موجود ہے۔ اس کے بعد، ایف ایس ڈی اے کی خصوصی ٹیم نے کرائم برانچ، غازی آباد کی مدد سے اسے 22 جولائی کوکے ڈبلیومال، راج نگر ایکسٹینشن کے قریب سے گرفتار کر لیا۔
فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کمشنر ڈاکٹر روشن جیکب نے بتایا کہ امین آباد میں چھاپے کے دوران برآمد ہونے والی”فلوزن اے اے“ دوا کا نمونہ اسپیوریس (نقلی ) پایا گیا۔ اس دوران گرفتار ملزم راجندر سنگھ عرف ارون ٹنڈا کے موبائل فون کی ڈیجیٹل تلاشی سے نقلی فلوزن اسٹرپس، پیکیجنگ دستاویزات اور مشینوں سے متعلق واٹس ایپ چیٹس کی تصاویر سامنے آئیں۔ اس ڈیجیٹل ثبوت نے واضح کیا کہ لکھنو¿ میں برآمد ہونے والی نقلی دوا اور دہرادون میں چلنے والی غیر قانونی فیکٹری ایک ہی بین ریاستی نیٹ ورک کا حصہ تھی۔ اس لیڈ کی بنیاد پر تفتیش آگے بڑھی اور دہرادون فیکٹری پر چھاپے نے پورے سنڈیکیٹ کو بے نقاب کردیا۔
گرفتار ملزمین کے موبائل فون کی ڈیجیٹل فارنسک جانچ میں کئی چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے۔ واٹس ایپ چیٹس میں معروف فارماسیوٹیکل برانڈز، پیکیجنگ میٹریل، اسپیئر پارٹس اور مینوفیکچرنگ فوٹوز کی نقلی اسٹرپس کا انکشاف ہوا۔ تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ پیکیجنگ میں جان بوجھ کر تبدیلیاں کی گئی ہیں،جنہیں عام صارف پہچان نہیں سکتا تھا۔ اس ثبوت کی بنیاد پر دہرادون میں غیر قانونی فیکٹری کا پتہ چلا۔ ملزم کی معلومات کی بنیاد پر، اتر پردیش ایف ایس ڈی اے، کرائم برانچ غازی آباد،اور اتراکھنڈ ایف ایس ڈی اے کے اہلکاروں کی ایک مشترکہ ٹیم نے دیوی پور نیو ہائی وے روڈ، ایسٹ ہوپ ٹاؤن، دہرادون پر واقع ایک احاطے پر چھاپہ مارا۔ ایک کمرے سے ایک جدید ایلومینیم-ایلو پیکنگ مشین، ایک پٹی مشین، ایک انک جیٹ بیلٹ پرنٹر، ایک کمپریسر، ایک ہائی وولٹیج اسٹیبلائزر، بڑی مقدار میں نیم تیار شدہ گولیاں اور کیپسول، پرنٹ شدہ ایلومینیم فوائل، ریپرز اور ماسٹر کارٹن برآمد ہوئے۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نقلی ادویات درست لائسنس کے بغیر تیار کی جا رہی تھیں اور ان کی پیکنگ اور معروف فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی طرح مارکیٹنگ کی جا رہی تھی۔
چھاپے کے دوران، کئی مشہور فارماسیوٹیکل برانڈز کے لیے جعلی پیکیجنگ میٹریل، بشمول کلیویکٹم-625 اورریزو-ڈی کیپسول برآمد کیے گئے۔ سیپلا، ڈاکٹر ریڈیز، انٹاس، لوپین، ایلڈر اور دیگر بڑی کمپنیوں کے ناموں کے ساتھ پرنٹ شدہ ماسٹر کارٹن اور ایلومینیم فوائل بھی برآمد ہوئے۔ حکام کا خیال ہے کہ یہ دوائیں اصلی دوائیوں کی آڑ میں مختلف ریاستوں کے بازاروں میں سپلائی کی جا رہی تھیں۔ اس معاملے میں گورو تیاگی، راجندر سنگھ عرف ارون ٹنڈا، وپن بھٹناگر اور ونے چند کو نامزد کیا گیا ہے۔ راجندر سنگھ عرف ارون ٹنڈا اور ونے چند کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم کے خلافبھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) 2023 کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں دفعہ 111 بھی شامل ہے، جو منظم جرائم سے متعلق ہے۔ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے اور تفتیشی ادارے پورے مالیاتی نیٹ ورک اور سپلائی چین کی بھی چھان بین کر رہے ہیں۔
فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کمشنر ڈاکٹر روشن جیکب نے جمعہ کو بتایا کہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر ریاست میں ”زیرو ٹالرینس“ پالیسی کے تحت نقلی ادویات کے خلاف مسلسل مہم چلائی جارہی ہے۔ صحت عامہ سے سمجھوتہ کرنے والے کسی گروہ کو نہیں بخشا جائے گا۔ محکمہ خود کو جعلی ادویات کو ضبط کرنے تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ مینوفیکچرنگ سے لے کر سپلائی اور فروخت تک پورے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے کارروائی جاری رکھے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد