
۔ ایس ایس بی اور پولیس کے مشترکہ کارروائی میں جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستان میں دراندازی کی سازش کا پردہ فاش
بہرائچ، 24 جولائی (ہ س)۔ بہرائچ پولیس اور ایس ایس بی نے جمعہ کو ہندوستان-نیپال بین الاقوامی سرحد پرغیر قانونی دراندازی میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا۔ مشترکہ کارروائی میں امریکہ سے تعلق رکھنے والی کالعدم تنظیم ’وارث پنجاب دے‘ کے سرگرم رکن سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وشواجیت سریواستو نے بتایا کہ خصوصی خفتہ اطلاع کی بنیاد پر ایس ایس بی اور پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے جمعرات کی رات روپئی ڈیہا تھانہ علاقے میں بی آئی ٹی چیک پوسٹ پر نیپال سے غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہونے والے مشتبہ افراد کو روکا۔
پوچھ گچھ اور تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ گرفتار افراد میں امریکہ کے کیلیفورنیاکے رہنے والے منویر سنگھ ڈھلوں اور پنجاب کے رہنے والے وکرم جیت سنگھ شامل ہیں، جن کا تعلق ’وارس پنجاب دے‘ نامی تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ تین مقامی معاونین راہل کمار، سریش کمار پاٹھک اور دلیپ پاٹھک عرف راہل پاٹھک کو بھی گرفتار کیا گیا۔
تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزمین جعلی شناختی کارڈ کے ذریعے اور مقامی ساتھیوں کی مدد سے غیر قانونی طور پر نیپال کے راستے ہندوستان میں داخل ہو رہے تھے۔ تفتیش کے دوران، ملزمین کے قبضے سے ان کی تنظیم اور سرگرمیوں سے متعلق کئی اہم سراغ ملے۔ ان کی مجرمانہ تاریخ اور نیٹ ورک کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے پنجاب پولیس سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔
فرضی دستاویزات اور غیر ملکی سامان برآمد
گرفتار ملزمین سے ایک امریکی پاسپورٹ، ایک آئی فون، ایک بینک آف امریکہ کا ڈیبٹ کارڈ، غیر ملکی کریڈٹ کارڈ، فرضی آدھار کارڈ، پین کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، ہندوستانی اور نیپالی کرنسی اور ایک کار اور ایک موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔ قبضے میں لیے گئے دستاویزات کی صداقت کی تصدیق کی جا رہی ہے۔
پہلے ہی درج ہیں سنگین مقدمات
پولیس کے مطابق وکرم جیت سنگھ اور منویر سنگھ ڈھلوں کے خلاف پہلے ہی پنجاب میں سنگین جرائم کے مقدمات درج ہیں۔ بہرائچ میں ان اور دیگر ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا(آئی پی سی)، جعلسازی، دھوکہ دہی اور غیر ملکی شہریوں سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیاں اب اس نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی تلاش کر رہی ہیں۔ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ان کے کنکشن دوسری ریاستوں تک یا بیرون ملک بھی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد