
دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر کانگریس نے اٹھائے سوال
۔خواتین کانگریس نے قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا
بھوپال، 24 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش خواتین کانگریس کی سابق صدر شوبھا اوجھا نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کو لے کر مرکزی حکومت پر سنگین الزامات عائد کئے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرے کے دوران طالبات کے ساتھ مبینہ طور پر کی گئی بدسلوکی اور تشدد کی منصفانہ جانچ کر کے قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
شوبھا اوجھا نے جمعہ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پرامن مظاہرہ کر رہے طلبہ پر پولیس نے فورس کا استعمال کیا، جس میں کئی طالب علم اور طالبات زخمی ہوئیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کچھ طالبات کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن کی منصفانہ جانچ کر کے قصورواروں کو سزا دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس اہلکاروں کے ذریعے خواتین کے ساتھ نامناسب رویہ اپنایا گیا ہے، تو انہیں فوری طور پر نشان زد کر کے ملازمت سے برطرف کیا جائے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے اس پورے واقعے کی عدالتی یا آزادانہ جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔
شوبھا اوجھا نے نیٹ امتحانات سے متعلق مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت طلبہ کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے تحریک کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ شوبھا اوجھا نے بی جے پی حکومت پر خواتین کے تحفظ کو لے کر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ’بیٹی بچاو، بیٹی پڑھاو‘ اور ’ناری شکتی وندن‘ جیسی مہمات تبھی با معنی ہوں گی، جب خواتین اور طالبات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مدھیہ پردیش میں خواتین کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی حکومت کے کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران ہوئی پولیس کارروائی کی منصفانہ جانچ کرائی جائے، قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے نیز طلبہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن