دہلی ہائی کورٹ میں اگلے ہفتے جنتر منتر پرانٹرنیٹ بند کرنے کے معاملے کی سماعت
نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے جنتر منتر اور اس کے آس پاس موبائل انٹرنیٹ بند کرنے کے حکومت کے حکم کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ درخواست میں خرابی کی وجہ سے معاملہ آج لسٹ نہیں ہو سکا۔ اب سماعت اگلے ہف
Internet


نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے جنتر منتر اور اس کے آس پاس موبائل انٹرنیٹ بند کرنے کے حکومت کے حکم کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ درخواست میں خرابی کی وجہ سے معاملہ آج لسٹ نہیں ہو سکا۔ اب سماعت اگلے ہفتے ہو گی۔

درخواست گزار کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ کے سامنے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے فوری سماعت کا مطالبہ کیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے حفاظتی انتظامات اور مظاہروں کے پیش نظر موبائل انٹرنیٹ خدمات بند کرنے کے حکومتی حکم کو چیلنج کرنے والی مفاد عامہ کی ایکعرضی (پی آئی ایل) کی سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ مینشنگکے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مرکزی حکومت اور متعلقہ اتھارٹی نے اچانک جنتر منتر کے آس پاس کے علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایسا کرنا مکمل طور پر من مانی، غیر قانونی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف گزشتہ کچھ دنوں سے جنتر منتر پر طلبہ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ اس کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے امن و امان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ٹیلی مواصلات قانون اور متعلقہ قواعد کے تحت احتیاطی تدابیر کے طور پر جنتر منتر کے ڈیڑھ کلومیٹر کے دائرے میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو عارضی طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کئے۔ یہ پابندی شام سے دیر رات تک نافذ رہی، جس کی وجہ سے جنتر منتر اور کناٹ پلیس اور منڈی ہاو¿س سمیت علاقوں میں موبائل ڈیٹا خدمات متاثر ہوئیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کی وجہ سے عوام، مقامی کاروبار، طلبا اور پیشہ ور افراد کو خاصی پریشانی کا سامنا ہے۔ عرضی میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کا حکم آزادی اظہار اور معلومات کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande