
نئی دہلی، 24 جولائی (ہ س)۔ دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے مہاراشٹر کے سابق وزیر بابا صدیقی کے قتل کے سلسلے میں گینگسٹر لارنس بشنوئی کے بھائی انمول بشنوئی کو ممبئی پولیس کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج پرشانت شرما نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ خط پر غور کرنے کے بعد یہ حکم جاری کیا۔
دراصل مرکزی وزارت داخلہ نے تہاڑ جیل کے باہر انمول بشنوئی کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔ اس حکم کے مدنظر پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے انمول بشنوئی کو ممبئی پولیس کے حوالے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ گریٹر ممبئی کی سٹی سیشن کورٹ کے حکم کے بعد ممبئی پولیس نے انمول بشنوئی کی تحویل مانگی تھی۔
انمول بشنوئی پر مہاراشٹرا این سی پی لیڈر بابا صدیقی کے قتل کا الزام ہے۔ بشنوئی نے امریکی عدالت میں سیاسی پناہ کی درخواست کی تھی لیکن اس کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ بشنوئی کو بعد میں امریکہ سے ڈیپورٹ (حوالگی )کرکے دہلیلایا گیا تھا۔ این آئی اے نے اسے 19 نومبر 2025 کو دہلی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا۔
انمول بشنوئی کے خلاف ملک بھر میں 22 مقدمات زیر التوا ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیاں مئی 2022 میں پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کی بھی تحقیقات کر رہی ہیں۔ سدھو موسے والا کے قتل کے بعد انمول بشنوئی 2022 میں جعلی پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے امریکہ فرار ہو گیا تھا۔ انمول بشنوئی پر دہلی، ہریانہ، پنجاب اور راجستھان میں لارنس بشنوئی گینگ کے لیے تاوان وصولی کا سنڈیکیٹ چلانے کا الزام ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد