ڈیجیٹل اریسٹ سائبر فراڈ معاملہ، ناگپور صارف کمیشن کا تاریخی فیصلہ، متاثرہ خاتون کو 5 لاکھ 18 ہزار 437 روپے واپس کرنے کا بینک کو حکم
ڈیجیٹل اریسٹ سائبر فراڈ معاملہ، ناگپور صارف کمیشن کا تاریخی فیصلہ، متاثرہ خاتون کو 5 لاکھ 18 ہزار 437 روپے واپس کرنے کا بینک کو حکمناگپور، 24 جولائی (ہ س)۔ ملک بھر میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل اریسٹ سائبر فراڈ کے معاملات کے درمیان ناگپور ضلع صارف تن
CRIME NAGPUR DIGITAL ARREST


ڈیجیٹل اریسٹ سائبر فراڈ معاملہ، ناگپور صارف کمیشن کا تاریخی فیصلہ، متاثرہ خاتون کو 5 لاکھ 18 ہزار 437 روپے واپس کرنے کا بینک کو حکمناگپور، 24 جولائی (ہ س)۔ ملک بھر میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل اریسٹ سائبر فراڈ کے معاملات کے درمیان ناگپور ضلع صارف تنازعات ازالہ کمیشن نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے متعلقہ بینک کو متاثرہ خاتون سے دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کی گئی رقم واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمیشن نے بینک کی جانب سے خدمات میں کوتاہی اور لاپرواہی قرار دیتے ہوئے شکایت کنندہ خاتون کو 5 لاکھ 18 ہزار 437 روپے 8 جون 2023 سے اصل ادائیگی تک 9 فیصد سالانہ سود کے ساتھ ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔کمیشن کے روبرو پیش کی گئی معلومات کے مطابق 8 جنوری 2023 کو شکایت کنندہ خاتون کو ایک شخص کا فون آیا، جس نے خود کو فیڈیکس کنزیومر سروس کا افسر بتایا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ خاتون کے نام سے ایک بین الاقوامی پارسل بھیجا گیا ہے، جس میں دو پاسپورٹ، پانچ اے ٹی ایم کارڈ، 300 گرام گانجا اور ایک لیپ ٹاپ برآمد ہوا ہے۔ جب خاتون نے واضح کیا کہ انہوں نے ایسا کوئی پارسل نہیں بھیجا تو انہیں مبینہ طور پر ممبئی پولیس سے بات کرانے کے بہانے دوسرے افراد سے جوڑ دیا گیا۔ ٹھگوں نے خاتون کی شناخت کے غلط استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں سنگین جرم میں ملوث ہونے اور گرفتاری کا خوف دلایا۔ذہنی دباؤ، دھمکیوں اور مبینہ جانچ و کارروائی کے اخراجات کے نام پر ایک ہی دن میں خاتون سے مختلف بینک کھاتوں میں 95 ہزار 499 روپے، 3 لاکھ 7 ہزار 939 روپے 50 پیسے، ایک لاکھ 90 ہزار روپے اور 99 ہزار 999 روپے سمیت مجموعی طور پر 6 لاکھ 93 ہزار 437 روپے 50 پیسے منتقل کرا لیے گئے۔فراڈ کا احساس ہونے پر خاتون نے فوری طور پر اپنے بینک سے رابطہ کیا اور نیشنل سائبر کرائم پورٹل پر شکایت درج کرائی۔ ابتدا میں بینک نے انہیں عارضی طور پر شیڈو کریڈٹ فراہم کیا، لیکن بعد میں یہ کہتے ہوئے واپس لے لیا کہ تمام لین دین او ٹی پی کے ذریعے صارف کی رضامندی سے ہوا تھا اور ہر ٹرانزیکشن کا ایس ایم ایس ان کے موبائل پر بھیجا گیا تھا۔ اس کے بعد خاتون نے بینکنگ لوک پال سے رجوع کیا۔ لوک پال نے متنازع رقم کا تقریباً 25 فیصد یعنی ایک لاکھ 75 ہزار روپے واپس کرنے کی ہدایت دی۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ جس مستفید کھاتے میں رقم منتقل کی گئی تھی، وہ اسی بینک کی دوسری شاخ کا تھا اور اسے مبینہ طور پر منی میول اکاؤنٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔کمیشن کے سامنے یہ حقیقت بھی رکھی گئی کہ متعلقہ کھاتہ دار کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ سے پانچ لاکھ روپے کے درمیان تھی، جبکہ اس کھاتے کے ذریعے سالانہ تقریباً 40 لاکھ روپے کا لین دین ہو رہا تھا۔ مزید یہ کہ گزشتہ تین ماہ سے غیر فعال رہنے والے اسی کھاتے میں صرف تین دن کے اندر 2 کروڑ 84 لاکھ روپے کا لین دین کیا گیا۔شکایت کنندہ کی جانب سے وکیل مہیندر لمیے نے مؤقف اختیار کیا کہ صارفین کے کھاتوں میں مشتبہ مالی لین دین کی نشاندہی کرنا، ان پر مسلسل نظر رکھنا اور مناسب حفاظتی اقدامات کرنا بینک کی ذمہ داری ہے۔ دوسری جانب بینک نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ صارفین کے تنازع کا معاملہ نہیں بلکہ پولیس تحقیقات کا موضوع ہے، اس لیے شکایت مسترد کی جائے۔ بینک نے یہ بھی کہا کہ ڈیجیٹل لین دین کے دوران صارفین کو بھی احتیاط برتنی چاہیے۔کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صارف کے کھاتے میں اچانک بڑے پیمانے پر رقم کی منتقلی، بھاری مالیت کے لین دین اور مشتبہ سرگرمیوں پر بینک کو فوری طور پر متحرک ہونا چاہیے تھا۔ کمیشن نے کہا کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے رہنما اصولوں کے مطابق بڑے آر ٹی جی ایس لین دین، صارف کے معمول کے مالی رویے سے مختلف ٹرانزیکشنز، کھاتے کی نوعیت سے مطابقت نہ رکھنے والی مالی سرگرمیوں اور دیگر مشتبہ لین دین کی نگرانی کرنا بینکوں کی ذمہ داری ہے۔کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ ضروری احتیاط نہ برتنے کی وجہ سے بینک کی لاپرواہی کے باعث یہ فراڈ ممکن ہوا۔ اسی بنیاد پر بینک کی خدمات میں کمی، لاپرواہی اور صارف تحفظ قانون 2019 کے تحت غیر منصفانہ تجارتی طرز عمل ثابت ہوتا ہے۔کمیشن نے بینک کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ شکایت کنندہ کو 5 لاکھ 18 ہزار 437 روپے 8 جون 2023 سے اصل ادائیگی کی تاریخ تک 9 فیصد سالانہ سود کے ساتھ ادا کرے۔ اس کے علاوہ ذہنی اور جسمانی اذیت کے ازالے کے لیے 25 ہزار روپے بطور معاوضہ اور عدالتی اخراجات کے طور پر 10 ہزار روپے بھی ادا کیے جائیں۔ یہ تمام ادائیگیاں حکم جاری ہونے کی تاریخ سے 45 دن کے اندر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ناگپور ضلع صارف کمیشن کے اس فیصلے کو ملک بھر میں ڈیجیٹل اریسٹ اور دیگر آن لائن مالیاتی دھوکہ دہی کے متاثرین کے لیے ایک اہم نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے سے صارفین کو یہ پیغام بھی ملا ہے کہ صارف کمیشن کے ذریعے بینکوں کی جوابدہی طے کی جا سکتی ہے اور مشتبہ مالیاتی لین دین کی نگرانی میں غفلت برتنے پر بینک بھی ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔ اس مقدمے میں شکایت کنندہ کی جانب سے ایڈوکیٹ مہیندر لمیے نے پیروی کی، جبکہ مدعا علیہ بینک کی نمائندگی ایڈوکیٹ پی جی میوار نے کی۔ہندوستھان سماچار--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande