دادر احتجاج کی وائرل ویڈیو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، پولیس افسر خاتون نہیں بلکہ مرد مظاہرین کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا، ممبئی پولیس
دادر احتجاج کی وائرل ویڈیو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، پولیس افسر خاتون نہیں بلکہ مرد مظاہرین کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا، ممبئی پولیسممبئی، 24 جولائی (ہ س)۔ ممبئی پولیس نے دادر میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک خاتون مظاہرین کے ساتھ
دادر احتجاج کی وائرل ویڈیو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، پولیس افسر خاتون نہیں بلکہ مرد مظاہرین کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا، ممبئی پولیس


دادر احتجاج کی وائرل ویڈیو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، پولیس افسر خاتون نہیں بلکہ مرد مظاہرین کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا، ممبئی پولیسممبئی، 24 جولائی (ہ س)۔ ممبئی پولیس نے دادر میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک خاتون مظاہرین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی سے متعلق وائرل ویڈیو پر باضابطہ وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو اصل واقعے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتی۔ ممبئی پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مختصر ویڈیو کی بنیاد پر غلط نتائج اخذ کیے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والا افسر دراصل ایک مرد مظاہرین کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اسی دوران ایک خاتون اچانک اس منظر میں آ گئیں، جبکہ متعلقہ افسر کی توجہ دوسری جانب مرکوز تھی۔اپنے سرکاری بیان میں ممبئی پولیس نے کہا کہ اس ویڈیو کی غیر ذمہ دارانہ انداز میں غلط تشریح کی جا رہی ہے۔ محکمہ کے مطابق متعلقہ پولیس افسر کی کارروائی صرف مرد مظاہرین کو قابو کرنے تک محدود تھی اور خاتون کی موجودگی ایک غیر متوقع صورتحال میں سامنے آئی، جس کے باعث ویڈیو کے مناظر کو بعد میں مختلف انداز سے پیش کیا گیا۔پولیس نے مزید کہا کہ وضاحت جاری کرنے سے قبل اس پورے واقعے کا اعلیٰ پولیس افسران نے تفصیلی جائزہ لیا۔ محکمہ کے مطابق تمام متعلقہ حقائق کی تصدیق کی گئی اور دستیاب ویڈیوز اور دیگر شواہد کا باریک بینی سے معائنہ کیا گیا تاکہ واقعے کے اصل حالات کو سمجھنے کے بعد ہی سرکاری مؤقف جاری کیا جا سکے۔ یہ وضاحتی بیان ممبئی پولیس کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس، آپریشنز کی جانب سے جاری کیا گیا، جب سوشل میڈیا پر ویڈیو وسیع پیمانے پر وائرل ہونے کے بعد پولیس افسر کے مبینہ طرز عمل پر عوامی سطح پر بحث شروع ہو گئی تھی۔ممبئی پولیس نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس واقعے کو اصل تناظر سے الگ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ محکمہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختصر ویڈیوز کی بنیاد پر فوری نتیجہ اخذ نہ کریں بلکہ ایسے مواد کو ذمہ داری کے ساتھ دیکھیں اور غیر مصدقہ دعوؤں کے بجائے صرف تصدیق شدہ معلومات پر ہی اعتماد کریں۔ہندوستھان سماچار--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande