
جوہر یونیورسٹی کے حق میں سماج وادی پارٹی کا احتجاج، پولیس سے جھڑپ، مقدمہ درج
علی گڑھ، 24 جولائی (ہ س)۔ علی گڑھ میں جوہر یونیورسٹی کے حق میں سماج وادی پارٹی کے کارکنوں نے ضلع ہیڈکوارٹر پر زبردست احتجاج اور دھرنا دیا۔ مظاہرین نے رام پور کے ضلع مجسٹریٹ کے احکامات کو تغلقی فرمان قرار دیتے ہوئے سخت مخالفت کرتے ہوئے مرکزی و ریاستی حکومتوں کی تنقید کی۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ جب بھی مودی اور یوگی حکومتیں کسی معاملے میں کارروائی کرتی ہیں تو پولیس کو آگے کر دیا جاتا ہے۔
اس موقع پر سماج وادی پارٹی کے شہر صدر نے کہا کہ اگر جوہر یونیورسٹی پر بلڈوزر چلایا گیا تو رام پور میں دہلی جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ احتجاج کے دوران کارکنوں نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا پتلا نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے انہیں روک دیا۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید نوک جھونک ہوئی۔ سماج وادی پارٹی کے کارکنوں نے سِول لائنز تھانے کے انسپکٹر پر پستول تاننے کا الزام بھی عائد کیا، (حالانکہ پستول نکالنے کا ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے )اور ان کا گھیراؤ کرتے ہوئے ہنگامہ کیا۔ بعد ازاں بعض کارکن ضلع ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ کو زبردستی کھول کر اندر داخل ہو گئے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 24 جولائی کو دوپہر تقریباً ایک بجے کچہری کے سامنے، تھانہ سِول لائنز کے علاقے میں پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سِول لائنز کے انسپکٹر اپنی فورس کے ساتھ تعینات تھے۔ اسی دوران چند افراد نے پتلا نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی، جسے روکنے کے لیے پولیس نے ضروری کارروائی کی۔ پولیس کا الزام ہے کہ کچھ افراد نے سرکاری کام میں مداخلت کی اور انسپکٹر کے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔
اس معاملے میں تھانہ سِول لائنز میں کچھ نامزد اور متعدد نامعلوم افراد کے خلاف سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے، پولیس سے بدتمیزی کرنے اور امن و امان میں خلل پیدا کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی قانونی کارروائی جاری ہے، سرکل آفیسر سروَم سنگھ نے بتایا کہ پورے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ