
ممبئی ، 23 جولائی (ہ س)۔ بالی ووڈ اداکار سلمان خان نے ملک میں تعلیمی نظام میں بہتری کے مطالبات کے لیے جاری طلبہ تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے تعلیم اور طلبہ کے مستقبل کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ نوجوانوں کے مطالبات کو مثبت انداز میں سنا جائے اور تعلیمی نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
دہلی میں جاری طلبہ احتجاج کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں سلمان خان نے کہا کہ جس تحریک کا آغاز پرامن انداز میں ہوا تھا، اس کے دوران تشدد کی اطلاعات سامنے آنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے طلبہ اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔
اداکار نے مبینہ امتحانی پرچہ لیک کے معاملے کو نہایت سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے طلبہ کا ایک شفاف، منصفانہ اور قابل اعتماد تعلیمی نظام کے مطالبے پر متحد ہونا اس بات کی علامت ہے کہ نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ان کے مطابق اس تحریک کو والدین کی جانب سے ملنے والی حمایت بھی واضح کرتی ہے کہ تعلیم کا مسئلہ صرف طلبہ تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ تشویش بن چکا ہے۔
سلمان خان نے کہا کہ طلبہ نے اپنے رویے، عزم اور نظم و ضبط سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیمی نظام میں بہتری کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی سنجیدگی، محنت اور دیانت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی کی بنیاد بنے گی اور ایک مضبوط بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس تحریک کو سیاسی مفادات یا جماعتی بحث کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اس جدوجہد کا مرکز صرف تعلیم، طلبہ کے حقوق اور امتحانی نظام میں شفافیت ہونا چاہیے، کیونکہ اس تحریک کی اصل طاقت خود طلبہ ہیں، جنہوں نے اپنے بہتر مستقبل کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کی ہے۔
اداکار نے امید ظاہر کی کہ حکومت طلبہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور ایسے عملی فیصلے کرے گی جن سے تعلیمی نظام مزید مضبوط، شفاف اور قابل اعتماد بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ مثبت اور تعمیری حل نہ صرف موجودہ طلبہ بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
اپنے پیغام کے اختتام پر سلمان خان نے کہا کہ وہ تمام طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے دعاگو ہیں اور چاہتے ہیں کہ بھارت میں تعلیم کا معیار ہر سال مزید بہتر ہو۔ ان کے مطابق ملک کو ایسی تعلیمی شناخت قائم کرنی چاہیے کہ دنیا بھر کے طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بھارت کو ترجیح دیں اور مستقبل میں بھارت ایک عالمی تعلیمی مرکز کے طور پر اپنی مضبوط پہچان بنا سکے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے