
ممبئی ، 23 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے اور شیو سینا ادھو بالا صاحب ٹھاکرے دھڑے کے صدر ادھو ٹھاکرے نے نیٹ امتحان کے مبینہ پرچہ لیک، ملک گیر طلبہ تحریک اور احتجاج کے دوران مبینہ پولیس کارروائی کے خلاف مشترکہ احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ 26 جولائی کو شیواجی پارک سے شری سدھی ونائک مندر تک نکالا جانے والا مارچ طلبہ، والدین اور عام شہریوں کی آواز کو پرامن انداز میں اجاگر کرنے کے لیے ہوگا۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ نے اپنے مطالبات کو ہمیشہ پرامن انداز میں پیش کیا، لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج میں شریک نوجوانوں، خصوصاً طالبات، کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں مناسب نہیں سمجھا جا سکتا۔
راج ٹھاکرے نے کہا کہ اگر کسی سرکاری نظام میں سنگین کوتاہی سامنے آئے تو متعلقہ وزیر کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھارتیہ جنتا پارٹی بھی مختلف واقعات کے بعد وزراء کے استعفوں کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ انہوں نے 26 نومبر ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل کے استعفے اور سابق ممبئی پولیس کمشنر اروپ پٹنائک کے خلاف ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جوابدہی کا اصول ہر دور میں یکساں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں طلبہ کا بنیادی مطالبہ صرف مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک محدود تھا، لیکن حکومت نے بروقت اور مؤثر انداز میں معاملہ حل کرنے کے بجائے جس طریقے سے صورتحال کو سنبھالا، اس کے بعد احتجاج کا دائرہ وسیع ہو گیا اور معاملہ براہ راست وزیر اعظم تک پہنچ گیا۔
راج ٹھاکرے نے مزید الزام لگایا کہ حکومت نے مذاکرات کے بجائے سختی کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کسانوں کی تحریک، منی پور کی صورتحال اور قبائلی علاقوں کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان معاملات میں بھی حکومت نے اسی طرز عمل کا مظاہرہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی حکومت کو خبردار کر چکے تھے کہ امتحانی نظام کو مکمل طور پر مرکز کے ماتحت لانے سے طلبہ پر ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوگا اور اس کے منفی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ موجودہ احتجاج اب صرف نیٹ امتحان کے مبینہ پرچہ لیک تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف سرکاری پالیسیوں سے ناراض عوام بھی اس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی کے حالیہ دورے کے دوران مختلف طبقات سے ملاقاتوں میں انہیں یہ احساس ہوا کہ نوٹ بندی سمیت کئی فیصلوں پر عوام میں موجود ناراضگی اب کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دہلی میں احتجاج کے دوران طالبات کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق بعض طالبات کے ساتھ نامناسب سلوک کیا گیا اور انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جس کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔
ادھو ٹھاکرے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ صرف سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنے کے بجائے احتجاج کرنے والے طلبہ سے براہ راست ملاقات کریں۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے ساتھ مکالمہ ہی مسائل کے حل کی بہتر راہ ہموار کر سکتا ہے اور اس سے جمہوری عمل مزید مضبوط ہوگا۔ مشترکہ مارچ کے حوالے سے ادھو ٹھاکرے نے شرکاء سے مکمل نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج ہر صورت پرامن رہنا چاہیے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بعض عناصر یا سادہ لباس میں موجود افراد مارچ کا رخ موڑنے یا اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس لیے شرکاء کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
راج اور ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ 26 جولائی کا مارچ عوامی اتحاد اور جمہوری احتجاج کی علامت ہوگا۔ ان کے مطابق مارچ کے اختتام پر شرکاء شری سدھی ونائک مندر پہنچ کر حکومت کے لیے بہتر فیصلوں کی دعا کریں گے اور ساتھ ہی پرامن انداز میں اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرائیں گے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے