نیٹ معاملے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ، این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ کا کانگریس کے خلاف احتجاج
نئی دہلی، 23 جولائی (ہ س)۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران جمعرات کو نیٹ پیپر لیک معاملے پر سیاسی محاذ آرائی تیز ہوگئی۔ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے ممبران پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاوس کے مکر دوار (مکر گیٹ) پر کانگریس پارٹی کے خلاف احتجاج ک
پاترا


نئی دہلی، 23 جولائی (ہ س)۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران جمعرات کو نیٹ پیپر لیک معاملے پر سیاسی محاذ آرائی تیز ہوگئی۔ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے ممبران پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاوس کے مکر دوار (مکر گیٹ) پر کانگریس پارٹی کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ احتجاج 21 جولائی کو وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے قریب کانگریس کی طرف سے منعقد کیے گئے دھرناو مظاہرے کی مخالفت میں کیا گیا ۔

کانگریس اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے بی جے پی نے الزام لگایا کہ وہ اپوزیشن کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے بجائے محض ہنگامہ برپا کر رہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ سمبت پاترا نے کانگریس پر ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس بینرز کے ساتھ احتجاج کرکے ایوان کا وقت ضائع کرتی ہے اور ایسے مسائل سے گریز کرتی ہے جن پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہوتی ہے۔

سمبت پاترا نے بتایا کہگزشتہ دو تین دنوں میں بی جے پی لیڈر نتن نوین اور سابق قومی صدر جے پی نڈا نے طلباءاور سونم وانگچک کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ ان کے مطابق، ان بات چیت میں پیپر لیک کے معاملے پر سنجیدہ غور و فکر اور سخت قوانین کے نفاذ کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس ایوان میں اس مسئلہ پر بحث نہیں چاہتی بلکہ وہ محض سیاست کرنا چاہتی ہے۔ پاترا نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے پیپر لیک سے متعلق معاملات میں جلد انصاف کو یقینی بنانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا تاریخی فیصلہ لیا ہے۔

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سدھانشو ترویدی نے کہا کہ این ڈی اے طلباءکے مفادات کے تئیں پوری طرح حساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح کر دیا ہے کہ طلباءکے مفادات سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہے اور اس معاملے میں قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے ان مقدمات کے جلد حل کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کے فیصلے کو بھی دہرایا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande