

منیلا، 23 جولائی (ہ س)۔ آسیان ممالک کی مختلف نشستوں اور کواڈ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے دو روزہ دورے پر فلپائن پہنچے ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جمعرات کو عمان، برطانیہ، نیدرلینڈز، فلپائن، پاپوا نیو گنی اور برونائی سمیت کئی ممالک کے وزرائے خارجہ اور رہنماؤں سے ملاقات کی۔ انہوں نے ان ملاقاتوں کی تفصیلات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ بات چیت کے دوران خلیجی خطے کی صورتحال، بھارت-برطانیہ آزاد تجارتی معاہدے سے پیدا ہونے والے مثبت ماحول، بھارت-فلپائن اسٹریٹجک شراکت داری، بحرالکاہل کے جزیرہ ممالک کے ساتھ ترقیاتی تعاون، نئی ٹیکنالوجی کے امکانات اور ہند-بحرالکاہل تعاون جیسے اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
جے شنکر نے بتایا کہ انہوں نے عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بوسعیدی سے ملاقات کی، جس میں خلیجی خطے میں حالیہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی روابط کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے اپنی پہلی ملاقات میں جے شنکر نے انہیں نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ حال ہی میں نافذ ہونے والے بھارت-برطانیہ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) سے پیدا ہونے والے مثبت ماحول کو آگے بڑھانے اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔
ایک اور پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین (یو این آر ڈبلیو اے) کے قائم مقام کمشنر جنرل کرسچین سانڈرز سے ملاقات کے دوران بھارت کی جانب سے حالیہ عطیہ دہندگان کی کانفرنس میں صحت اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں کیے گئے تعاون پر گفتگو ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن سے ملاقات میں وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورے کے نتائج پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے جانے سے سیمی کنڈکٹر، آبی وسائل، گرین ہائیڈروجن، صحت اور ثقافت جیسے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
ایک اور پوسٹ میں جے شنکر نے بتایا کہ فلپائن کے صدر فرڈینینڈ آر مارکوس جونیئر سے ملاقات کے دوران انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے آسیان کی کامیاب صدارت کے لیے بھارت کی حمایت کا اعادہ کیا اور بھارت-فلپائن اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت 2025–2029 کے مشترکہ لائحۂ عمل پر مؤثر عمل درآمد پر زور دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاپوا نیو گنی کے وزیر خارجہ جسٹن ڈبلیو ٹکاچینکو سے ملاقات میں دوطرفہ تعاون اور بھارت-بحرالکاہل جزائر تعاون فورم کے تحت شراکت داری پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ بھارت بحرالکاہل کے جزیرہ ممالک کی ترقی، صلاحیت سازی اور سمندری سلامتی کے شعبوں میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔
ایک اور پوسٹ میں جے شنکر نے کہا کہ برونائی کے وزیر خارجہ شہزادہ عبدالمتین سے ملاقات کے دوران انہیں نئی ذمہ داریوں پر مبارک باد دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈرون اور ڈیجیٹل شعبہ، تعاون کے نئے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کے مطابق دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے اور آسیان کے تحت کثیر جہتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر 22 اور 23 جولائی کو جنوب مشرقی ایشیائی ملک فلپائن کے دورے پر ہیں۔ اس دوران وہ آسیان-بھارت وزارتی کانفرنس، مشرقی ایشیا سربراہی اجلاس کے وزرائے خارجہ کی نشست، آسیان علاقائی فورم (اے آر ایف) کے اجلاس اور کواڈ وزرائے خارجہ کی مختلف ملاقاتوں میں شرکت کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد