منیلا میں ایسٹ ایشیا سمٹ میں وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی نظام غیر مستحکم ہے، اسے صرف بات چیت سے ہی حل کیا جاسکتا ہے
نئی دہلی، 23 جولائی (ہ س)۔ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے جمعرات کو جنوب مشرقی ایشیائی ملک فلپائن کی راجدھانی منیلا میں منعقدہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (اے ایس ای اے این) کی 21ویں مشرقی ایشیا چوٹی کانفرنس (ای اے ایس) میں شرکت کی۔ ملاقات م
خارجہ


نئی دہلی، 23 جولائی (ہ س)۔ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے جمعرات کو جنوب مشرقی ایشیائی ملک فلپائن کی راجدھانی منیلا میں منعقدہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (اے ایس ای اے این) کی 21ویں مشرقی ایشیا چوٹی کانفرنس (ای اے ایس) میں شرکت کی۔ ملاقات میں علاقائی استحکام، سمندری سلامتی، میانمار بحران، جنوبی بحیرہ چین کے تنازع اور مغربی ایشیا کے تنازعات جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام غیر مستحکم اور غیر یقینی ہے، جہاں باہمی انحصار اور مشترکہ مفادات مسابقت اور دشمنی کے ساتھ ساتھ موجود ہیں۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے میٹنگ کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ نئی صلاحیتوں، تعلقات اور چیلنجوں کی وجہ سے ساختی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ سیاست اور سیکورٹی اب معاشیات اور کارکردگی پرحاوی ہورہے ہیں اور خطرہ مول لینے کی روایت میں اضافہ ہورہاہے ۔ ہندوستان اس سال دو ای اے ایس پروگراموں کی میزبانی کرے گا: کوچی میں میری ٹائم سیکورٹی تعاون پر 7ویں ای اے ایس کانفرنس اور لوتھل میں ای اے ایس میری ٹائم ہیریٹیج فیسٹیول شامل ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی معیشت متعدد تنازعات کے اثرات سے دوچار ہے اور توانائی، خوراک اور صحت کے تحفظ کو بالخصوص گلوبل ساو¿تھ کے لیے ہلکے میںنہیں لیا جا سکتا۔ انہوں نے مغربی ایشیا کے تنازع کے خاتمے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی بحری راستوں کو محفوظ اور بلا روک ٹوک رہنا چاہیے اور ملاحوں، سویلین جہازوں یا انفراسٹرکچر پر حملے کسی بھی صورت میں ناقابل قبول ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان بحیرہ جنوبی چین پر ایک موثر، قانونی طور پر پابند ضابطہ اخلاق کی حمایت کرتا ہے، جو 1982 کے یو این سی ایل او ایس سے مطابقت رکھتا ہے اور تمام صارفین کے جائز حقوق کو متاثر نہیں کرتا ہے۔ انہوں نے میانمار کے مسئلے کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان آسیان کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

اجلاس میں انہوں نے کہا کہ سائبر فراڈ مراکز کے خلاف سنجیدہ اجتماعی کارروائی ضروری ہے۔ ان مراکز سے بڑی تعداد میں ہندوستانی شہری متاثر ہوئے ہیں۔ ہندوستان نے راحت اور بازآبادکاری میں اہم تعاون کیا ہے۔ ہندوستان یو این آر ڈبلیو اے کے لیے ایک سرفہرست ابھرتا ہوا عطیہ دہندہ ہے۔ ہندوستان کا ماننا ہے کہ دو ریاستی حل ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande