
بھوپال، 22 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس کے تیسرے دن بدھ کے روز حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار نے دہلی میں طلبہ پر ہوئی پولیس کارروائی، کانگریس رہنماوں کی گرفتاری اور کین-بیتوا منصوبے سے متاثرہ خاندانوں کی آباد کاری اور معاوضے کے مسئلے کو ترجیحات کے ساتھ ایوان میں اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ان اہم عوامی مفاد کے موضوعات پر بحث سے بچ رہی ہے۔
اجلاس شروع ہونے سے پہلے امنگ سنگھار کی قیادت میں کانگریس قانون ساز پارٹی کے اراکین دہلی میں طلبہ پر ہوئی پولیس کارروائی اور کانگریس رہنماوں کی گرفتاری کے خلاف کالی پٹی باندھ کر اسمبلی پہنچے۔ اس کے بعد ایوان کے اندر انہوں نے اس موضوع پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ سنگھار نے کہا کہ اپنے مستقبل سے متعلق مسائل کو لے کر مظاہرہ کر رہے طلبہ پر پولیس نے طاقت کا استعمال کیا، لیکن حکومت اس معاملے پر جواب دینے کے بجائے بحث سے بچتی رہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نیٹ پیپر لیک، بھرتی گھوٹالوں اور بڑھتی بے روزگاری جیسے مسائل سے نوجوان پہلے ہی پریشان ہیں، ایسے میں طلبہ کے ساتھ ہوئی کارروائی کئی سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ان مسائل کو لے کر جمہوری طریقے سے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ ساتھ ہی الزام لگایا کہ ریاست کے طلبہ کے لیے ’’اراجک‘‘ (انتشار پسند) اور ’’کاکروچ‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا، جسے انہوں نے نوجوانوں کی توہین بتایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت اور وزیر اعلیٰ کے پاس ریاست کے نوجوانوں کے مسائل پر بحث کے لیے وقت نہیں ہے۔ تاہم، اسمبلی کے اسپیکر نے اس موضوع پر التوا کی تحریک کے تحت بحث کی اجازت نہیں دی۔
حزب اختلاف رہنما نے ایوان میں کین-بیتوا منصوبے سے متاثرہ خاندانوں کی آباد کاری اور معاوضے کی تقسیم کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ چھترپور اور پنا اضلاع کے کئی متاثرہ خاندانوں کو اب تک مناسب معاوضہ نہیں ملا ہے اور معاوضے کے تعین کے عمل کو لے کر بھی شکایتیں سامنے آئی ہیں۔
سنگھار نے حکومت سے پوچھا کہ منصوبے سے متاثرہ کتنے خاندانوں کو اب تک معاوضہ نہیں ملا ہے اور اس سلسلے میں تفصیلی معلومات ایوان کی میز پر رکھی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کروڑوں روپے کا معاوضہ تقسیم کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، لیکن اگر متعدد خاندان اب بھی اپنے حق سے محروم ہیں تو نقل مکانی اور منصوبے کے اگلے عمل کو کس بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی دوبارہ جانچ کرانے اور تمام اہل متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا۔
حزب اختلاف رہنما نے کہا کہ کانگریس نوجوانوں، کسانوں، طلبہ اور نقل مکانی کرنے والے خاندانوں سے منسلک مسائل کو اسمبلی کے اندر اور باہر مسلسل اٹھاتی رہے گی اور حکومت کو عوام کے سامنے جواب دہ بنانے کی کوشش جاری رکھے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن