مبینہ منی لانڈرنگ معاملہ میں سراج میمن کو بامبے ہائی کورٹ سے ضمانت
ممبئی ، 22 جولائی (ہ س): بامبے ہائی کورٹ نے مالیگاؤں سے متعلق 157.78 کروڑ روپے کے مبینہ منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگی کے مقدمے میں گرفتار ناسک کے رہائشی سراج میمن کو ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ مقدمے کی سماعت جلد مکمل ہو
Legal Mum Malegaon Money Laundering Bail


ممبئی ، 22 جولائی (ہ س): بامبے ہائی کورٹ نے مالیگاؤں سے متعلق 157.78 کروڑ روپے کے مبینہ منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگی کے مقدمے میں گرفتار ناسک کے رہائشی سراج میمن کو ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ مقدمے کی سماعت جلد مکمل ہونے کے امکانات نظر نہیں آتے، اس لیے ملزم کو غیر معینہ مدت تک عدالتی حراست میں رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق سراج میمن کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 12 دسمبر 2024 کو گرفتار کیا تھا۔ مرکزی ایجنسی کا الزام ہے کہ اس نے دی ناسک مرچنٹس کوآپریٹو بینک لمیٹڈ میں 14 اور بینک آف مہاراشٹر میں پانچ بینک کھاتے کھلوائے تھے، جنہیں بعد میں مختلف کمپنیوں کے ذریعے مالی لین دین کے لیے استعمال کیا گیا۔ تفتیشی ادارے کا دعویٰ ہے کہ یہ کمپنیاں محض کاغذی ادارے تھیں اور ان کے ذریعے بڑے پیمانے پر مشتبہ مالی لین دین انجام دیا گیا۔

ای ڈی کے مطابق سراج میمن ان تمام بینک کھاتوں سے ہونے والے لین دین کا انتظام سنبھالتا تھا اور انہی کھاتوں کے ذریعے تقریباً 157.78 کروڑ روپے کی مبینہ غیر قانونی رقم منتقل کی گئی۔ تفتیش میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ نامکو بینک کے مختلف کھاتوں سے تقریباً 14.84 کروڑ روپے نقد نکالے گئے، جن میں سے تقریباً 13.25 کروڑ روپے حوالہ کے ذریعے مالیگاؤں سے ممبئی منتقل کیے گئے۔ ایجنسی کا مزید دعویٰ ہے کہ اس رقم میں سے تقریباً 1.58 کروڑ روپے سراج میمن نے اپنے پاس رکھ لیے تھے۔

سراج میمن کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل سندیپ کرنک نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کی کارروائی اب تک باقاعدہ طور پر شروع نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چارج شیٹ پانچ جلدوں پر مشتمل ہے، جس میں تقریباً سات ہزار صفحات شامل ہیں، جبکہ استغاثہ نے 40 گواہوں کی فہرست بھی پیش کی ہے۔ ان کے مطابق ان تمام شواہد اور گواہوں کی موجودگی میں مقدمے کے جلد مکمل ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی، اس لیے ملزم کو مزید طویل عرصے تک جیل میں رکھنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔

دفاع کے دلائل پر غور کرنے کے بعد بامبے ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ حالات میں مقدمے کی سماعت مکمل ہونے میں مزید خاصا وقت لگ سکتا ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ طویل عدالتی حراست اور مقدمے کی کارروائی میں تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کو ضمانت دی جا سکتی ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ضمانت کا یہ حکم مقدمے کی اصل نوعیت یا الزامات کی صداقت پر کسی رائے کا اظہار نہیں ہے، بلکہ صرف اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے دیا گیا ہے کہ مقدمے کی سماعت فوری طور پر مکمل ہونے کا امکان نہیں ہے اور ملزم طویل عرصے سے عدالتی تحویل میں ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande