'دیدی کو حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے': کلیان بنرجی ممتا بنرجی سے ناراض نظر آئے
کولکاتا، 22 جولائی (ہ س)۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے بدھ کو 21 جولائی کے یوم شہدا کے موقع پر اسٹیج پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ نوک جھونک کے بعد عوامی طور پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ممتا بنرجی کا احترام
کلیان


کولکاتا، 22 جولائی (ہ س)۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے بدھ کو 21 جولائی کے یوم شہدا کے موقع پر اسٹیج پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ نوک جھونک کے بعد عوامی طور پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ممتا بنرجی کا احترام کرتے ہیں اور ان کے لیے کوئی بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، انہیں بھی اب سیاسی حقائق کو سمجھنا چاہیے۔

کلیان بنرجی نے کہا، میں دیدی کے لیے لڑنے کے لیے تیار ہوں، لیکن دیدی کو بھی حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔ میں ان سے پیار کرتا ہوں اور ان کا احترام کرتا ہوں اور ان کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں، لیکن اگر وہ یہ سوچتی ہیں کہ جیسے وہ چاہیں گے ویسا ہی ہوگا، یہ کام نہیں کرے گا۔ اگر دیدی یہ مانتی ہیں کہ ابھیشیک اور ڈیرک جو کچھ کہیں گے وہی ہوگا، یہ بھی ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی تقریر منگل کی دوپہر12:50 پر شروع ہوئی تھی۔ تقریر کے دورانیے کو لے کر اسٹیج پر ممتا بنرجی کے ساتھ زبانی تکرار ہوئی جس کے بعد وہ تقریب چھوڑ کر چلی گئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کسی نے ممتا بنرجی کو یہ دعویٰ کر کے گمراہ کیا کہ انہوں نے ایک گھنٹے تک بات کی تھی، ایسا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے انہیں تکلیف ہوئی ہے۔

تاہم، کلیان بنرجی نے پارٹی چھوڑنے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترنمول کانگریس کے اندر رہتے ہوئے بی جے پی کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا، میں پارٹی کیوں چھوڑوں گا؟ میں ترنمول میں رہ کر بی جے پی کے خلاف لڑوں گا۔ اگر ضرورت پڑی تو پارٹی کے اندر بھی اپنے خیالات کا اظہار کروں گا۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ممتا بنرجی زمینی حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہیں تو پھر انہوں نے جس پارٹی کی بنیاد رکھی اسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اسی دوران کلیان بنرجی نے ابھیشیک بنرجی کوبھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، سیاست اپنے گھر اور کالی گھاٹ تک محدود رہ کر نہیں چلائی جا سکتی۔ لوگوں کے درمیان جا کر جدوجہد میں شامل ہونا چاہیے۔ ہر چیز کا سامنا کرنا پڑتا ہے- آپ پر پھینکے گئے انڈے، لاٹھی چارج اور گالی بھی۔ یہ سب سیاست کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی، جوانی اور پیشہ ممتا بنرجی کو وقف کر دیا تھا، لیکن مسلسل 'ابھیشیک، ابھیشیک' کا نعرہ لگانے سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال کے لوگ اب بھی ممتا بنرجی کو اپنا لیڈر مانتے ہیں اور ان کی قیادت میں لڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande