
رانچی، 22 جولائی ( ہ س ) : جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے ریاست بھر، خصوصاً راجدھانی رانچی میں دکانوں کے باہر کھلے عام کٹے ہوئے بکرے اور مرغی کے گوشت کے فروخت کے خلاف دائر مفادِ عامہ کی درخواست (پی آئی ایل) پر بدھ کے روز سماعت کی۔ اس دوران ریاستی حکومت نے سلاٹر ہاؤس (ذبیحہ خانوں) کے قیام اور ان کے انتظام سے متعلق قواعد و ضوابط تیار کرنے کے لیے عدالت سے ایک ماہ کی مہلت طلب کی۔ عدالت نے حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت 20 اگست مقرر کر دی۔
چیف جسٹس ایم ایس سونک اور جسٹس راجیش شنکر پر مشتمل ڈویژن بینچ کے روبرو ریاستی حکومت نے بتایا کہ سلاٹر ہاؤس سے متعلق قواعد و ضوابط کا مسودہ تیار کرکے محکمۂ خزانہ کو منظوری کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ محکمۂ خزانہ کی منظوری کے بعد اسے کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ حکومت نے اس پورے عمل کی تکمیل کے لیے عدالت سے ایک ماہ کی مہلت دینے کی درخواست کی۔
عدالت نے حکومت کے مؤقف پر غور کرنے کے بعد آئندہ سماعت 20 اگست مقرر کی اور اشارہ دیا کہ اس تاریخ پر قواعد و ضوابط کی تیاری میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ یہ مفادِ عامہ کی درخواست شیام آنند پانڈے نے دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ رانچی سمیت ریاست کے مختلف شہروں میں متعدد گوشت فروش اپنی دکانوں کے باہر کھلے عام کٹے ہوئے بکرے اور مرغی کے گوشت کی نمائش کرتے ہوئے فروخت کرتے ہیں، جو خوراک کی حفاظت اور صفائی سے متعلق مقررہ معیارات کے مطابق نہیں ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کھلے عام گوشت کی نمائش اور فروخت متعلقہ قوانین، رہنما اصولوں اور سپریم کورٹ کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت کو اس سلسلے میں واضح قواعد نافذ کرنے اور کھلے عام گوشت کی نمائش و فروخت پر مؤثر کنٹرول یقینی بنانے کی ہدایت دی جائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد