
نئی دہلی، 22 جولائی (ہ س) ۔
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیجی ممالک سے خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی وجہ سے بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان شدید تنازعہ کے خدشات کے درمیان، برینٹ کروڈ کی قیمت آج دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ آج برینٹ کروڈ نے تیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 92 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ بھی آج ایک بار پھر 85ڈالر فی بیرل کی سطح کو عبور کر گیا۔
بین الاقوامی بازار میں، برینٹ کروڈ نے آج 0.45 ڈالر فی بیرل کے معمولی اضافہ کے ساتھ 91.46 ڈالر فی بیرل پرکاروبار کاآغاز کیا۔ کاروبار کے آغاز کے بعد اس کی قیمت میں اچھال آیا اور92.63 ڈالرفی بیرل تک پہنچ گئی۔ بین الاقوامی بازار میں پچھلے دو مہینے کے دوران برینٹ کروڈ کا یہ سب سے بلند سطح ہے ۔حالانکہ دن کے کاروبار میں اس کی قیمت میں معمولی گراوٹ بھی آئی ۔ ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 11:30بجے تک، برینٹ کروڈ 1.34ڈالر فی بیرل — یعنی 1.48 فیصد کے اضافے کے ساتھ 92.25ڈالرفی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
اسی طرح، ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ نے آج صرف 0.15 ڈالر فی بیرل کے معمولی اضافے کے ساتھ 84.59 ڈالرفی بیرل کی سطح سے آج کاروبار کی شروعات کی ۔ اس کے فوراً بعد، ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی قیمت 85.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، حالانکہ اس کے بعد قیمت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ 11:30 بجے (آئی ایس ٹی )تک، بین الاقوامی بازار میں ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 1.23 ڈالر فی بیرل یعنی 1.46فیصد اضافہ کے ساتھ 85.57 ڈالر فی بیرل پر کاروبار کر رہا تھا۔
قابل ذکرہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت ختم ہونے اور مغربی ایشیا میں تنازعات میں اضافے کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار ہے۔ گزشتہ ہفتے، بین الاقوامی بازار میں برینٹ کروڈ کی قیمت 87 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرکے ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح، ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی قیمت 81ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر چلی گئی تھی۔اس دوران تین دن کی سستی کے بعد، خام تیل کی قیمتوں نے گزشتہ چار تجارتی سیشنوں کے دوران اپنی تیزی کے رجحان نے دوبارہ رفتارپکڑلی ہے، جس کی وجھہ سے آج دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر خام تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات کو پیدا کر دیا ہے۔ ٹی این وی فنانشل سروسز کے سی ای او تارکیشور ناتھ ویشنو نے کہاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، دونوں طرف سے مسلسل حملوں کے ساتھ حوثی باغیوں نے بھی جنگ میں اپنی شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی قیادت میں حملے بند نہ ہوئے تو وہ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے راستے سمندری ٹریفک کو روک دیں گے۔ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے حوالے سے سمندری پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں اور جہاز کے مالکان کو سعودی بندرگاہوں پرلنگر اندازہونے سے خبردار کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی