
جموں میں پولیس نے کانگریس رہنماؤں کو حراست میں لیا
جموں، 22 جولائی (ہ س)۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ سمیت کانگریس کے درجنوں سینئر رہنماؤں اور کارکنوں کو منگل کی شام پولیس نے حراست میں لے لیا۔ کانگریس نے یہ احتجاج نئی دہلی میں لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی حراست کے خلاف کیا۔ اطلاعات کے مطابق دہلی میں پولیس کارروائی کی خبر ملنے کے بعد طارق حمید قرہ کی قیادت میں کانگریس رہنما اور کارکن پنجتیرتھی علاقے میں واقع لوک بھون کے باہر پہنچے اور دھرنا دیا۔ اس دوران مظاہرین نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔
احتجاج کے دوران پولیس کی ایک ٹیم موقع پر پہنچی اور طارق حمید قرہ، کارگزار صدر رمن بھلا، سابق وزیر لال سنگھ اور پارٹی کے چیف ترجمان رویندر شرما سمیت درجنوں رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے کر پولیس لائنز منتقل کر دیا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے طارق حمید قرہ نے دہلی میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کو ’آمرانہ ذہنیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوری اقدار پر حملہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے، جبکہ خواتین، مردوں اور بزرگوں کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی اور کانگریس کے دیگر سینئر رہنماؤں کو مبینہ طور پر زبردستی گھسیٹ کر حراست میں لیا گیا، جو ملک کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہے۔ قرہ نے کانگریس قیادت کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت سیاسی مخالفین کے خلاف طاقت کا بڑھتا ہوا استعمال کر رہی ہے۔
جے کے پی سی سی صدر نے الزام عائد کیا کہ حکومت پارلیمنٹ میں پولیس کارروائی سے متعلق بحث کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ عوامی اہمیت کے مسائل پر بحث کے لیے ہے اور اگر ایسے معاملات پر بھی بحث نہ ہو تو جمہوریت کمزور ہو جاتی ہے۔
طارق حامد قرہ نے مظاہرین، خصوصاً طلبہ کے خلاف مبینہ طاقت کے استعمال پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مرکز میں برسرِ اقتدار حکومت پر اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو بھی خبردار کیا کہ وہ مرکز جیسا طریقہ اختیار کرنے سے گریز کرے، کیونکہ عوام اس طرح کے اقدامات کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر