
لاتور، 22 جولائی (ہ س): لاتور ضلع پولیس کی مطلوب مفرور خصوصی مہم کے تحت 2008 کے ایک سنسنی خیز ڈکیتی مقدمے میں گزشتہ 18 برس سے مفرور دو ملزمان کو کرناٹک سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائی تکنیکی تجزیے، خفیہ معلومات اور مسلسل تفتیش کی بنیاد پر انجام دی گئی، جبکہ اس مقدمے کے دو دیگر ملزمان اب بھی مفرور ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ امول تامبے کے تصور کے تحت شروع کی گئی مطلوب مفرور مہم کے ذریعے پرانے سنگین مقدمات میں مفرور ملزمان کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منگیش چوہان اور سب ڈویژنل پولیس آفیسر وشال ڈھومے پاٹل کی رہنمائی میں اوراد پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے اس کارروائی کو کامیابی سے انجام دیا۔
پولیس کے مطابق 29 اکتوبر 2008 کو شکایت کنندہ اپنی بہن کے ساتھ نلنگا سے ہلگرا موٹر سائیکل پر جا رہے تھے۔ رات کے وقت ہنگرگا پاٹی علاقے میں چند ڈکیتوں نے سڑک پر پتھر رکھ کر ان کا راستہ روک لیا۔ اس کے بعد ملزمان نے دونوں سے سونے کے زیورات، موبائل فون اور دیگر قیمتی اشیا لوٹ لیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 9 ہزار 300 روپے تھی، اور موقع سے فرار ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد اوراد پولیس اسٹیشن میں ڈکیتی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
خصوصی مہم کے دوران اوراد پولیس نے اس پرانے مقدمے کی دوبارہ تفتیش شروع کی۔ تکنیکی شواہد، خفیہ اطلاعات اور مخبروں کی مدد سے تحقیقات آگے بڑھائی گئیں، جس کے دوران معلوم ہوا کہ مطلوب ملزمان شیواجی چندر پوار اور وسنت چندر پوار، دونوں بیری تانڈا، تعلقہ بھالکی، ضلع بیدر، ریاست کرناٹک میں مقیم ہیں۔ اس اطلاع کے بعد پولیس کی خصوصی ٹیم کرناٹک پہنچی اور دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق اس مقدمے میں شامل دیگر دو ملزمان بالاجی چوہان اور ماروتی پوار تاحال مفرور ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے بھی مسلسل کارروائی جاری ہے اور پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ باقی ملزمان کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ یہ کارروائی اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر ہنمنت بانگر، پولیس اہلکار لطیف سوداگر، بالو گائیکواڑ اور سندیپ مانے نے انجام دی، جبکہ ریاست کرناٹک کے مہکر پولیس اسٹیشن کے پولیس سب انسپکٹر جناردن ریڈی نے بھی اس کارروائی میں اہم تعاون فراہم کیا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے