
بہار پرائیویٹ یونیورسٹی (ترمیمی) بل۔ 2026 اسمبلی سے پاس، طلبہ کی نقل مکانی روکنا اہم مقصدپٹنہ، 22 جولائی (ہ س)۔ بہار اسمبلی نے بدھ کے روز’بہار پرائیویٹ یونیورسٹی(ترمیمی)۔ بل۔2026‘ کو صوتی ووٹ سے منظور کرلیا۔ بل پرتفصیلی بحث کے دوران حکومت نے اسے ریاست میں اعلیٰ تعلیم کو وسعت دینے اور طلبہ کی نقل مکانی کو روکنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا، جب کہ اپوزیشن نے نجی یونیورسٹیوں میں فیس، معیاری تعلیم، اور غریب طلبہ کی رسائی سے متعلق کئی سوالات اٹھائے۔بل پر بحث کے دوران وزیر اعلی سمراٹ چودھری نے کہا کہ ریاستی حکومت کا بنیادی مقصد ریاست کے اندر بہاری طلباء کو معیاری اعلیٰ تعلیم فراہم کرنا ہے۔ اس وقت طلبہ کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسری ریاستوں میں ہجرت کر رہی ہے۔ انہوں نے ایمیٹی یونیورسٹی میں 30,000 سے زائد اور لولی پروفیشنل یونیورسٹی میں تقریباً 11,000 طلباء کی مثال دی۔ اس کے علاوہ بہار کے لاکھوں طالب علم بھی ملک بھر کی مختلف نجی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔ اس سے والدین پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے اور ریاست سے ٹیلنٹ کا بھی خاتمہ ہوتا ہے۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ اگر بہار میں مزید پرائیویٹ یونیورسٹیاں قائم کی جاتی ہیں تو طلبہ کے ریاست سے باہر جانے کے امکانات کم ہوں گے۔ اس سے نہ صرف وقت اور پیسے کی بچت ہوگی بلکہ ریاست میں اعلیٰ تعلیمی ماحول کو بھی تقویت ملے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد نجی اداروں کو فروغ دینا نہیں بلکہ طلباء کو معیاری تعلیم کے مزید مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے تعلیمی اداروں کے قیام سے ریاست میں تعلیمی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔بل پر بحث کے دوران اے آئی ایم آئی ایم کے ایم ایل اے اختر الایمان نے تشویش کا اظہار کیا کہ نجی یونیورسٹیوں کی توسیع سے معاشی طور پر کمزور طبقوں کے طلباء کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت غریب طلباء کے مفادات کے تحفظ کے لیے بل میں واضح دفعات بنائے۔ دریں اثنا راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ایم ایل اے راہل شرما نے کہا کہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو اجازت دینے سے پہلے طلبہ کی فلاح و بہبود، معیاری تعلیم اور فیس کنٹرول سے متعلق واضح دفعات کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے وزیر سنجے ٹائیگر نے کہا کہ یہ کوئی نیا قانون نہیں ہے بلکہ 2013 میں نافذ کردہ بہار پرائیویٹ یونیورسٹی ایکٹ میں ضروری ترامیم کی جا رہی ہیں۔ موجودہ ترمیم کا مقصد یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے معیارات کے مطابق ضروری تبدیلیاں کرنا اور ایکٹ میں نئی نجی یونیورسٹیوں کے نام شامل کرنا ہے۔وزیر نے بتایا کہ اس ایکٹ کے تحت اب تک 11 نجی یونیورسٹیوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔ مستقبل میں یو جی سی کے معیار پر پورا اترنے والے اداروں کو تسلیم کیا جائے گا، جس سے ریاست میں اعلیٰ تعلیم کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نجی یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافے سے طلباء کو اپنی ریاست میں جدید نصاب، بہتر تعلیمی سہولیات اور روزگار پر مبنی تعلیم تک رسائی حاصل ہو گی۔ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان وسیع بحث، تجاویز اور جوابات کے بعد بہار پرائیویٹ یونیورسٹی (ترمیمی) بل ۔2026 کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس ترمیم سے ریاست میں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں سرمایہ کاری بڑھے گی، نئے تعلیمی اداروں کے قیام میں تیزی آئے گی اور بہار کے طلباء کو ان کی اپنی ریاست میں معیاری تعلیم کے مزید مواقع فراہم ہوں گے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan