او ایم آر گھوٹالہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات پر بی جے پی جواب دے: اشوک گہلوت
جے پور،22جولائی(ہ س)۔ راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے او ایم آر گھوٹالہ اور پرچہ لیک کے معاملات پر بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو نوجوانوں سے متعلق مسائل پر جواب دینا چاہیے۔ سوشل میڈیا
او ایم آر گھوٹالہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات پر بی جے پی جواب دے: اشوک گہلوت


جے پور،22جولائی(ہ س)۔ راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے او ایم آر گھوٹالہ اور پرچہ لیک کے معاملات پر بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو نوجوانوں سے متعلق مسائل پر جواب دینا چاہیے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں گہلوت نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کانگریس کے پُرامن احتجاج سے پریشان ہے اور نوجوانوں کے مستقبل اور بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2013 سے 2018 کے درمیان بی جے پی کے دورِ حکومت میں 12 مرتبہ پرچہ لیک کے واقعات پیش آئے، لیکن نہ کوئی سخت قانون بنایا گیا اور نہ ہی ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں پرچہ لیک مافیا کو فروغ ملا۔اشوک گہلوت نے کہا کہ کانگریس حکومت نے پرچہ لیک کے خلاف ملک کا سخت ترین قانون نافذ کیا، جس میں مجرموں کے لیے عمر قید، جائیداد ضبط کرنے اور 10 کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی۔ ان کے مطابق راجستھان ایسا قانون بنانے والی ملک کی پہلی ریاست تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس حکومت نے کسی امتیاز کے بغیر کارروائی کرتے ہوئے راجستھان پبلک سروس کمیشن (آر پی ایس سی) کے اُس وقت کے ایک رکن کو بھی گرفتار کیا، پرچہ لیک مافیا کی غیر قانونی جائیدادیں ضبط کیں، ملوث ملازمین کو برطرف کیا اور متاثرہ امتحانات دوبارہ منعقد کرائے۔

گہلوت نے بی جے پی حکومت سے راجستھان اسٹاف سلیکشن بورڈ (آر ایس ایس بی) کی بھرتی امتحانات میں سامنے آنے والے مبینہ او ایم آر گھوٹالہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایس او جی کی کارروائی کے باوجود حکومت نے ابھی تک شفاف تحقیقات کا اعلان نہیں کیا، جس کے باعث اس معاملے کے ملزمان کو ضمانت مل گئی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ پر لاٹھی چارج اور او ایم آر گھوٹالہ جیسے معاملات پر وضاحت دی جائے اور سچائی عوام کے سامنے لائی جائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande