اراولی کے تحفظ سے متعلق اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے عوام سے تجاویز طلب کر لیں
نئی دہلی، 21 جولائی ( ہ س) : سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے اراولی کی پہاڑیوں اور پہاڑی سلسلے سے متعلق معاملات پر عوام، ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں سے تجاویز اور یادداشتیں طلب کی ہیں۔ کمیٹی کو 31 اگست 2026 تک اپنی ج
اراولی کے تحفظ سے متعلق اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے عوام سے تجاویز طلب کر لیں


نئی دہلی، 21 جولائی ( ہ س) : سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے اراولی کی پہاڑیوں اور پہاڑی سلسلے سے متعلق معاملات پر عوام، ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں سے تجاویز اور یادداشتیں طلب کی ہیں۔ کمیٹی کو 31 اگست 2026 تک اپنی جامع رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنی ہے۔

سپریم کورٹ نے 25 مئی 2026 کو ازخود نوٹس لینے سے متعلق رِٹ پٹیشن (سول) نمبر 10/2025 میں جاری اپنے حکم کے تحت اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کو اراولی خطے سے متعلق ماحولیات، حیاتیاتی تنوع، کان کنی، مقامی آبادی کی معاش اور دیگر متعلقہ امور کا جامع جائزہ لینے اور سفارشات مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

کمیٹی نے دہلی، راجستھان، ہریانہ، گجرات سمیت دیگر ریاستوں کے متعلقہ فریقوں، ماہرینِ ماحولیات، تحفظِ ماحول کے کارکنوں، غیر منافع بخش تنظیموں، کان کنی کے لیز ہولڈرز، مختلف منصوبوں کے تجویز کنندگان، دیہی باشندوں، کسانوں، کان مزدوروں، مقامی برادریوں اور اس معاملے میں جائز مفاد رکھنے والے تمام افراد اور اداروں سے اپنی آرا اور تجاویز پیش کرنے کی اپیل کی ہے۔

کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ موصول ہونے والی تجاویز کے ساتھ، جہاں ممکن ہو، دستاویزی شواہد یا دیگر قابلِ تصدیق مواد بھی منسلک کیا جائے تاکہ ان کا مؤثر جائزہ لیا جا سکے۔ تمام تجاویز اور یادداشتیں اطلاع کی اشاعت کی تاریخ سے 21 دن کے اندر ای میل اور مقررہ گوگل فارم کے ذریعے ارسال کی جا سکتی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande