
نئی دہلی،21 جولائی(ہ س)۔ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے جنتر منتر پر جاری طلبہ کے پرامن احتجاج اور پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج، آنسو گیس کے استعمال اور طاقت کے بے دریغ استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔
پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے ایک پریس بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے طلبہ اور نوجوان جنتر منتر پر ایک جائز اور آئینی مطالبے کے ساتھ پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نیٹ اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے مسلسل پیپر لیک ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ یہ ایک مکمل طور پر جائز، جمہوری اور عوامی مطالبہ تھا، مگر حکومت نے نہ صرف اسے نظر انداز کیا بلکہ احتجاج کرنے والے طلبہ سے مذاکرات کی بھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک کو زبردستی صفدر جنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد جب پارلیمنٹ مارچ کے لیے ہزاروں طلبہ، نوجوان اور عوام جنتر منتر پر جمع ہوئے تو انتظامیہ نے مذاکرات کے بہانے احتجاج کی قیادت کرنے والے دو اہم ذمہ داران کو روک لیا۔ اس کے بعد پولیس اور نیم فوجی دستوں نے نہتے مظاہرین پر اس شدت سے حملہ کیا گویا وہ کسی دشمن فوج کا سامنا کر رہے ہوں۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ میڈیا میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق احتجاج کو بدنام کرنے کی غرض سے مبینہ طور پر پتھروں سے لدے ٹرک اور ٹوٹی ہوئی گاڑیاں بھی موقع پر لائی گئیں تاکہ مظاہرین پر تشدد اور پتھراؤ کا الزام عائد کیا جا سکے، مگر جب یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی تو پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور بعد ازاں بے رحمانہ لاٹھی چارج کیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس کے اس بے جا تشدد میں متعدد طلبہ شدید زخمی ہوئے، کئی کے سر پھٹ گئے، ہاتھ اور بازو ٹوٹ گئے، متعدد بے ہوش ہو گئے، جبکہ طالبات کو بھی نہیں بخشا گیا۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ملک کے مستقبل کے معماروں کے ساتھ ایسا غیر انسانی اور ظالمانہ برتاؤ کیا گیا۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ یہ نوجوان کسی دشمن ملک کے سپاہی نہیں بلکہ ہندوستان کے باصلاحیت طلبہ ہیں، جنہیں اپنے مستقبل اور ملک کے تعلیمی نظام کی شفافیت کی فکر ہے۔ ان کے ساتھ اس قسم کا رویہ کسی بھی جمہوری اور جوابدہ حکومت کے شایانِ شان نہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ متعدد ممتاز شخصیات، سماجی کارکنان اور سیاسی رہنما احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پہنچتے رہے، مگر حکومت نے نہ ان کے مطالبات پر توجہ دی اور نہ ہی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی فوری طور پر بند کی جائے، زخمی طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے، احتجاج کرنے والوں سے سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں، اور امتحانی نظام کو مکمل طور پر شفاف، دیانت دار اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل لاٹھی، آنسو گیس اور طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مکالمے، جمہوری اقدار اور آئینی طریق? کار میں مضمر ہے۔ ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تعلیمی اداروں کو مضبوط بنایا جائے، نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کیا جائے اور عدل و انصاف پر مبنی نظام کو فروغ دیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais