
سنبھل، 21 جولائی (ہ س): اتر پردیش کے ضلع سنبھل کی صدر تحصیل میں واقع شاہی جامع مسجد کو ہری ہر مندر قرار دینے کے دعوے سے متعلق دائر درخواست پر منگل کے روز سماعت کے بعد سول جج (سینئر ڈویژن) نے مقدمے کی آئندہ سماعت کے لیے 25 اگست 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔
منگل کو ضلع عدالت میں سول جج (سینئر ڈویژن) آدتیہ سنگھ کی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت ہوئی، تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے جاری حکمِ امتناع کے باعث مقدمے میں کوئی کارروائی نہ ہو سکی، جس کے بعد عدالت نے اگلی سماعت 25 اگست کے لیے مقرر کر دی۔
واضح رہے کہ 19 نومبر 2024 کو آٹھ درخواست گزاروں نے ایک عرضی دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد دراصل ہری ہر مندر ہے۔ اس مقدمے کی گزشتہ سماعت 26 مئی کو ہوئی تھی، جبکہ منگل کی سماعت کے بعد نئی تاریخ 25 اگست مقرر کی گئی۔
ہندو فریق کے وکیل گوپال شرما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج سماعت مقرر تھی، لیکن چونکہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے اور وہاں سے حکمِ امتناع برقرار ہے، اس لیے عدالت نے کوئی کارروائی نہیں کی اور اگلی تاریخ 25 اگست مقرر کر دی۔
عدالت کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ عمل کامیاب نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق ہندو فریق بات چیت کے لیے تیار تھا، لیکن دوسرے فریق کی جانب سے کوئی قابلِ قبول پیش رفت نہیں ہوئی۔
دوسری جانب شاہی جامع مسجد کمیٹی کے وکیل شکیل احمد وارثی نے بتایا کہ چونکہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ غور ہے، اس لیے عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے 25 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔
ثالثی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ کوشش اس لیے ناکام رہی کیونکہ ہندو فریق کی بنیادی درخواست مسجد میں پوجا کے حق سے متعلق تھی، جسے مسجد فریق نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مؤقف ہے کہ اس تنازعے کا فیصلہ عدالت ہی کرے، اور عدالت جو بھی فیصلہ سنائے گی، وہ انہیں قبول ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد