
پولیس نے انہیں دہلی کی طرف مارچ کرنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دیں، بارڈر پر حالات بدستور کشیدہ
چنڈی گڑھ، 21 جولائی (ہ س)۔ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے دہلی کی طرف مارچ کرنے والے پنجاب کے مختلف اضلاع کے کسانوں کو شمبھو بارڈر پر روک دیا گیا۔ منگل کو شدید بارش کے باوجود کسانوں نے شمبھو بارڈر پر اپنا احتجاج دوبارہ شروع کیا۔ پولیس کی رکاوٹوں کو توڑ کر ہریانہ کے راستے دہلی جانے کی کوشش کرنے وال کئی کسانوں کو بھی پولیس نےحراست میں لیا ۔
پنجاب اور ہریانہ کے کئی اضلاع میں کسان رہنماو¿ں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے اور پولیس کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ دہلی کے کسان گھاٹ جانے کے لیے کسان صبح میں پٹیالہ-امبالا کے درمیان شمبھو بارڈراور سنگرور-جند کے درمیان کھنوری بارڈرپر پہنچ گئے۔ جیسے ہی یہ معلوم ہوا، ہریانہ پولیس نے دونوں سرحدوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیں سیل کر دیاتاکہ کسان آگے نہیں بڑھ سکے۔ ہریانہ کی طرف سے دونوں سرحدوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ سرحد پر جے سی بی مشینیں، وجرا گاڑیاں اور آنسو گیس ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔
پنجاب کے مختلف اضلاع سے کسان شمبھو اور کھنوری سرحدوں پر جمع ہیں۔ وہاں مستقل احتجاج کی تیاریاں جاری ہیں۔ کسان مزدور مورچہ کے کنوینر سرون پنڈھر احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں۔ شمبھو بارڈر بند ہونے کی وجہ سے جالندھر دہلی قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت ٹھپ ہوگئی ہے۔ اس کے جواب میں ہریانہ پولیس نے ٹریفک کا رخ موڑ دیا ہے۔
اس دوران ، کسان رہنماو¿ں نے ہریانہ کے وزیر زراعت شیام سنگھ رانا سے ملاقات کی، جس کے بعد کسان رہنما سرون پنڈھر نے کہا کہ وزیر زراعت رانا نے انہیں یقین دلایا ہے کہ گرفتار کسان رہنماو¿ں کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔ پنڈھر نے مزید کہا کہ تحریک کی مستقبل کی حکمت عملی کسان لیڈر گرنام سنگھ چڈونی کی رہائی کے بعد طے کی جائے گی۔ ملاقات میں امریکہ بھارت تجارتی معاہدے پر بھی بات چیت ہوگی۔
اس سے قبل، کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے ہریانہ-پنجاب شمبھو بارڈر 13 ماہ (تقریباً 401 دن) کے لیے بند تھی۔ 13 فروری 2024 کو سیل ہونے کے بعد ہائی کورٹ کے حکم پر 20 مارچ 2025 کو دوبارہ کھول دیا گیاتھا۔ اب اسے دوبارہ بند کر دیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی