
نئی دہلی، 21 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے عصمت دری کیس میں ٹرائل کورٹ کی سزا کو برقرار رکھنے کے راجستھان ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی آسارام باپو کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ایمس کو میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس ایم ایم سندریش کی سربراہی والی بنچ نے اگلی سماعت 30 جولائی کو مقرر کی۔
اس سے قبل سماعت کے دوران راجستھان حکومت کی طرف سے پیش سالیسٹر جنرل نے کہا کہ آسارام باپو بالکل فٹ ہیں اور تین ماہ قبل ایودھیا اور کاشی وشوناتھ کا دورہ کر چکے ہیں۔ مہتا نے کہا کہ وہ ہر جگہ پیدل گئے تھے اور سفر کیا تھا۔
آسارام گزشتہ 11برسوں سے راجستھان کی جودھ پور جیل میں بند ہیں اور ان کی ضمانت کی درخواستیں ایک درجن سے زیادہ بار مسترد ہو چکی ہیں۔ انہیں 2013 میں جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 20 اگست 2013 کو ان کے خلاف جودھ پور کے آشرم میں جنسی استحصال کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سورت کی دو بہنوں نے بھی ان پر 2001 میں آشرم میں عصمت دری کا الزام عائد کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد