
کوچ بہار، 21 جولائی (ہ س)۔ کوچ بہار میونسپلٹی کو لے کر سیاسی گہما گہمی مزید تیز ہوگئی ہے۔ میونسپل چیئرمین دلیپ ساہا نے اس ہفتے کے شروع میں اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا۔ دریں اثنا، پیر کو کونسلروں کی اکثریت نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی۔
بتایا جاتا ہے کہ 13 کونسلروں کے دستخط شدہ تحریک عدم اعتماد ایس ڈی او کے دفتر میں جمع کرائی گئی۔ وہیں، دلیپ ساہا نے دعویٰ کیا کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے فوراً بعد اپنا استعفیٰ ایس ڈی او کو ای میل کے ذریعے بھیج دیا ہے۔ اس سے میونسپلٹی کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔
ایس ڈی او گووند نندی نے اس معاملے پر نامہ نگاروں سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، لیکن انتظامیہ کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ 13 کونسلروں کی طرف سے دستخط شدہ عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی ہے۔
دلیپ ساہا نے کہا، ”میں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ میں پیر یا منگل کو استعفیٰ دے دوں گا۔ میں بیمار تھا، اس لیے میں نے اپنی اہلیہ کے ذریعے استعفیٰ بھیجا، لیکن وہ کونسلروں کی بھیڑ دیکھ کر واپس آگئیں۔ اس کے بعد، میں نے اپنا استعفیٰ ای میل کے ذریعے بھیج دیا۔“ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ کونسلرز تحریک عدم اعتماد کیوں لائے۔
غور طلب ہے کہ ان کے استعفیٰ کی قیاس آرائیاں گزشتہ کچھ دنوں سے گردش کر رہی تھیں۔ ریاست میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مبینہ طور پر میونسپلٹی میں اثربڑھنے کی بات سامنے آئی ہے ، حالانکہ ان کے پاس کوئی کونسلر نہیں ہے۔ الزام ہے کہ انتظامیہ کے ذریعے ہی میونسپلٹی کو چلایا جا رہا ہے۔
اس درمیان پیر کو ترنمول کانگریس کے کونسلر سبھاجیت کنڈو کی قیادت میں کئی کونسلر سب ڈویژنل افسر کے دفتر گئے اور تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیئرمین کئی دنوں سے دفتر سے غیر حاضر ہیں جس سے کام اور خدمات میں خلل پڑتا ہے۔ فی الحال استعفیٰ اور عدم اعتماد دونوں کی تحریکوں سے کوچ بہار میونسپلٹی میں سیاسی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہو گئی ہے ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد