
نئی دہلی، 21 جولائی (ہ س)۔دہلی ہائی کورٹ میں 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف ایک عرضی دائر کی گئی ہے۔ اس درخواست کا ذکر چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ کے سامنے کیا گیا، جس میں فوری سماعت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے آج درخواست کی سماعت سے انکار کر دیا۔ ہائی کورٹ نے 22 جولائی کو سماعت کا حکم دیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہر معاملے پر عدالت آنا درست نہیں ہے۔ واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے پیپر لیک ہونے کے الزامات کے بعد 20 جون سے جنتر منتر پر مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج جاری ہے۔ اس دوران سونم وانگچک نے 28 جون سے بھوک ہڑتال شروع کر دی ۔ تقریباً 20 دن کی بھوک ہڑتال کے بعد انہیں جنتر منتر سے صفدر جنگ اسپتال لے جایا گیا۔
مظاہرین نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا۔ اس دوران دارالحکومت میں کئی مقامات پر مظاہرین اور دہلی پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران متعدد مقامات پرپولیس نے مظاہرین کے ساتھ بربریت کی ۔ پولیس نے کئی مقامات پر طلبا پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد