نیٹ - یوجی پیپر لیک اور طلبا کے خلاف پولیس کارروائی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں مسلسل دوسرے دن بھی ہنگامہ
۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوینئی دہلی، 21 جولائی (ہ س)۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوسرے دن اپوزیشن کے ہنگامہ آرائی سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی متاثر رہی ۔ اپوزیشن نے دونوں ایوانوں میں نیٹ- یوجی امتحان میں سوالیہ پرچہ
PARLIAMENT-MONSOON-OPPOSITION-ADJOURNMENT


۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوینئی دہلی، 21 جولائی (ہ س)۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوسرے دن اپوزیشن کے ہنگامہ آرائی سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی متاثر رہی ۔ اپوزیشن نے دونوں ایوانوں میں نیٹ- یوجی امتحان میں سوالیہ پرچہ لیک ہونے اور جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف پولیس کی کارروائی پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلسل نعرے بازی کی۔ ہنگامہ آرائی کے باعث دونوں ایوانوں کی کارروائی دوسری بار دوپہر 2 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔

لوک سبھا کی کارروائی کے آغاز پر پریزائیڈنگ آفیسر سندھیا رائے نے ایوان کو مطلع کیا کہ اسپیکر نے التوا کی کوئی تحریک منظور نہیں کی ہے۔ اس کے بعد وقفہ سوالات کی کارروائی شروع کرکے متعلقہ وزرا کو سوالات کے جواب ایوان میں پیش کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ اسی دوران ، اپوزیشن ارکان جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف پولیس کی مبینہ کارروائی اور نیٹ-یوجی سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر نعرے بازی کرتے رہے۔

لوک سبھا کے سکریٹری جنرل ا±تپل کمار سنگھ نے بجٹ اجلاس کے دوران منظور کیے گئے مختلف بلوں، بشمول تخصیص بل 2026 اور فائنانس بل 2026 اور دیگر کو ایوان میں پیش کیا۔ اس دوران اپوزیشن ارکان پوسٹر اٹھائے ایوان میں صدر نشیں کی کرسی تک پہنچ گئے اور نعرے بازی کرتے رہے۔ پریزائیڈنگ افسر نے ارکان سے اپیل کی کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس جائیں اور ایوان کی کارروائی چلنے دیں، لیکن ہنگامہ آرائی جاری رہنے کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

راجیہ سبھا میں بھی اپوزیشن نے طلبہ کے احتجاج اور ان کے خلاف پولیس کی کارروائی کا معاملہ اٹھایا۔ اپوزیشن لیڈر ملیکارجن کھرگے نے کہا کہ طلبا کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسلسل ہنگامہ آرائی کے درمیان، چیئرمین اور نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے پہلے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کی۔ اجلاس دوبارہ شروع ہونے کے بعد بھی اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھا جس کی وجہ سے راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردی گئی۔

آج صبح اپوزیشن ارکان نے لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی اسپیکر کی کرسی تک پہنچ گئے۔ مسلسل ہنگامہ آرائی کی وجہ سے اسپیکر اوم برلا نے شروع میں ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کردی۔

اس دوران ، پارلیمنٹ شروع ہونے سے پہلے، وزیر اعظم نریندر مودی نے بی جے پی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں نیٹ امتحان کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے میں فوری کارروائی کی، ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا، ضروری اقدامات کیے اور یہاں تک کہ جہاں ضروری ہوا ،دوبارہ امتحانات بھی کرائے گئے۔

قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے شروع ہوا ہے جو 13 اگست تک جاری رہے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande