
جموں خطے میں شدید بارش کی وجہ سے معمولات زندگی درہم برہم
جموں، 21 جولائی (ہ س)۔ جموں خطے کے بیشتر علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ منگل کو بھی جاری رہا، جس کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے، کئی مقامات پر تودے گرنے اور اچانک سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ حکام نے حساس علاقوں میں ہائی الرٹ برقرار رکھا ہے۔ حکام کے مطابق اتوار سے اب تک پونچھ، راجوری اور ڈوڈہ اضلاع میں بارش سے متعلق مختلف واقعات میں کم از کم 23 افراد ہلاک جبکہ 7 دیگر لاپتہ ہیں۔
مسلسل بارش، تودے گرنے اور اچانک سیلاب کے خطرے کے پیش نظر شری امرناتھ یاترا، ماتا ویشنو دیوی یاترا، شیو کھوری یاترا اور مچیل ماتا یاترا سمیت خطے کی تمام بڑی یاترائیں مسلسل تیسرے روز بھی معطل رہیں۔ انتظامیہ کے مطابق صورتحال پر چوبیس گھنٹے نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ ضلع انتظامیہ، امدادی ٹیمیں، پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے حساس علاقوں میں ہائی الرٹ پر ہیں۔ یاتریوں کو موسم بہتر ہونے اور یاترا کے راستوں کو محفوظ قرار دیے جانے تک مقررہ پناہ گاہوں میں قیام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پونچھ اور راجوری کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں لاپتہ سات افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں خراب موسم کے باوجود جاری ہیں۔ گزشتہ تین دنوں کے دوران بادل پھٹنے، اچانک سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات نے دونوں اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کٹرا میں منگل کی صبح ساڑھے آٹھ بجے ختم ہونے والے 24 گھنٹوں کے دوران 107.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ پونچھ میں 61.5 ملی میٹر، ریاسی میں 54.5 ملی میٹر، راجوری میں 49 ملی میٹر اور جموں میں 35 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
تودے گرنے اور پہاڑی چٹانیں کھسکنے کے باعث کئی شاہراہیں، سڑکیں اور رابطہ سڑکیں بند یا متاثر ہیں، جبکہ شہری اور دیہی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ سڑکوں کی بحالی اور ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے، تاہم مسلسل بارش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے 23 جولائی تک درمیانی سے شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں سے انتہائی احتیاط برتنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور دریاؤں، نالوں، آبی ذخائر اور تودے گرنے کے خدشے والے علاقوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔
دریں اثنا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گزشتہ دو روز کے دوران اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے خطے میں سیلابی صورتحال، بحالی کے کاموں اور امدادی اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے انتظامیہ کو ضروری خدمات کی فوری بحالی، متاثرہ خاندانوں کو بروقت امداد فراہم کرنے اور مزید موسمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنے کی ہدایت دی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر