
بھوپال، 21 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر برائے خوراک، شہری سپلائی اور تحفظ صارف گووند سنگھ راجپوت نے کہا کہ قومی غذائی تحفظ ایکٹ (این ایف ایس اے) صرف اناج کی تقسیم کی اسکیم نہیں ہے، بلکہ غریب، محروم اور ضرورت مند خاندانوں کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا آئینی طریقہ فراہم کرنے والا سماجی انصاف کا ایک مضبوط ذریعہ ہے۔
وزیر راجپوت منگل کے روز دارالحکومت بھوپال کے کشابھا ٹھاکرے انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں اسٹیٹ فوڈ کمیشن اور مرکزی نیتی آیوگ کے اشتراک سے ’’قومی غذائی تحفظ ایکٹ 2013 : پیش رفت، چیلنجز اور مستقبل کی سمت‘‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ قومی ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت وزیر اعظم نریندر مودی کے ’’غریبوں کی فلاح‘‘ کے عزم اور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں یہ یقینی بنا رہی ہے کہ ریاست کا کوئی بھی مستحق خاندان اناج کے حق سے محروم نہ رہے اور بھوکا نہ سوئے۔
وزیر راجپوت نے کہا کہ اب تقسیم کاری مرکز سے راشن کی مناسب قیمت کی دکان تک اور دکان سے صارف تک راشن کی ہر معلومات رجسٹرڈ موبائل نمبر پر پیغام کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد صرف راشن فراہم کرنا نہیں، بلکہ ہر مستحق فرد تک اس کا حق وقت پر، مکمل شفافیت اور جواب دہی کے ساتھ پہنچانا ہے۔ اسی سوچ کے مطابق مدھیہ پردیش میں پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈی ایس) میں وسیع اصلاحات کی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں نظام زیادہ جدید، شفاف اور عوام دوست بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں راشن کی دکانوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے جوڑا گیا ہے۔ پی او ایس مشینوں کے ذریعے تصدیق، ای-کے وائی سی، ڈیجیٹل راشن کی تقسیم، آن لائن نگرانی اور پوری سپلائی چین کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ سے اناج کی تقسیم کے نظام میں شفافیت اور اعتبار دونوں بڑھے ہیں۔ اس سے بے ضابطگیوں پر موثر روک تھام ہوئی ہے اور مستحقین کا اعتماد بھی مضبوط ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ مدھیہ پردیش کا خواب تبھی پورا ہوگا جب ہر شہری کو غذا، تغذیہ اور سماجی تحفظ کا حق پوری طرح یقینی ملے۔ ریاستی حکومت اسی ہدف کے ساتھ مسلسل کام کر رہی ہے اور یہ یقینی بنا رہی ہے کہ کوئی بھی مستحق خاندان کسی بھی صورتِ حال میں اپنے حق سے محروم نہ رہے۔
وزیر برائے خوراک راجپوت نے تمام عوامی نمائندوں، افسران، عوامی خدمت سے جڑی تنظیموں اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ہر مستحق فرد تک اس کا حق پہنچانے میں اپنا سرگرم کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور معاشرے کی مشترکہ کوششوں سے ہی بھوک سے پاک، غذائیت کی کمی سے پاک، خود کفیل اور ترقی یافتہ مدھیہ پردیش کی تعمیر کا عزم پورا ہوگا۔ ریاست میں بزرگ اور معذور صارفین اناج لینے کے لیے کسی بھی شخص کو نامزد کر سکتے ہیں۔ ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے ’آپ کا راشن-آپ کے دوار‘ اسکیم لاگو کی گئی ہے۔ اس میں راشن کی گاڑی گاں گاں جا کر صارفین کو اناج فراہم کرتی ہے۔
وزیر نے کہا کہ افسران کی ایک ٹیم دوسری ریاستوں میں بھیجی جائے گی۔ یہ ٹیم ان ریاستوں میں چلنے والی بہتر اسکیموں کا مطالعہ کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ورکشاپ میں جو بھی اہم تجاویز آئیں گی، ان پر غور کر کے عمل درآمد کیا جائے گا۔ مدھیہ پردیش اسٹیٹ فوڈ کمیشن کے سکریٹری شری من شکلا نے ورکشاپ کے مقاصد کے بارے میں معلومات دیں۔
اس موقع پر معروف ماہرِ اقتصادیات اور نیتی آیوگ کے سابق رکن پروفیسر رمیش چند، ایم پی اسٹیٹ فوڈ کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ویریندر کمار ملہوترا، فوڈ کمشنر بھاسکر لکشکار، ڈاکٹر یوگیش سوری، نیتی آیوگ اور ملک کی مختلف ریاستوں کے فوڈ کمیشنز کے چیئرمین و ممبر سکریٹریز سمیت محکمہ خوراک کے افسران موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن