
میناکشی نٹراجن پہنچیں ہائی کورٹ، راجیہ سبھا انتخاب میں پرچہ نامزدگی منسوخ ہونے کے فیصلے کو چیلنج کیا
۔ جنتر منتر پر طالبات پر لاٹھی چارج کی مذمت کی
بھوپال/ جبل پور، 21 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا انتخاب کے لیے کانگریس امیدوار رہیں سینئر رہنما میناکشی نٹراجن نے اپنا نامزدگی فارم منسوخ کیے جانے کے فیصلے کو جبل پور میں واقع مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں چیلنج دیا ہے۔ نٹراجن نے طے شدہ 45 دنوں کی قانونی حد کے اندر عرضی دائر کر کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو غلط ٹھہرایا ہے۔
میناکشی نٹراجن منگل کے روز جبل پور پہنچیں اور ہائی کورٹ میں الیکشن پٹیشن داخل کی۔ جبل پور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے، انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی تعمیل کرتے ہوئے انہوں نے قواعد کے مطابق مقررہ 45 دنوں کی وقت کی حد کے اندر یہ عرضی دائر کی ہے۔ نٹراجن کا الزام ہے کہ ریٹرننگ آفیسر کے ذریعہ ان کا نامزدگی فارم بغیر کسی ٹھوس اور جائز قانونی بنیاد کے منسوخ کیا گیا تھا۔ جس معاملے کا نوٹس تک نہیں لیا گیا تھا، اسے ہی بنیاد بنا کر ان کے اعتراضات کو مسترد کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے انتخابات میں ’ووٹوں کی چوری‘‘ کے الزامات لگتے تھے، لیکن اس بار تو پوری کی پوری 'سیٹ ہی چرا لی گئی ہے۔ نٹراجن نے اعتماد ظاہر کیا کہ انہیں ہائی کورٹ سے انصاف ضرور ملے گا۔
قانونی لڑائی کے ساتھ ساتھ میناکشی نٹراجن نے سیاسی محاذ پر بھی مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ دہلی کے جنتر منتر پر پیر کے روز پیش آئے حادثے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی جمہوری تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا، جب اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کر رہے طالب علموں اور طالبات پر بے رحمی سے پولیس سے لاٹھی چارج کرایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ مرکزی حکومت ہر پرامن عوامی تحریک کو پولیس فورس کے دم پر کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نٹراجن نے کہا کہ ملک کا نوجوان قومی مفاد کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اور اب اس حکومت کی قول و فعل کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ 9 جون کو مدھیہ پردیش اسمبلی کے پرنسپل سکریٹری اور ریٹرننگ آفیسر کے ذریعہ فارم 26 میں مبینہ معلومات چھپانے کا حوالہ دیتے ہوئے میناکشی نٹراجن کا نامزدگی فارم منسوخ کر دیا گیا تھا۔ عددی طاقت کے حساب سے کانگریس کی جیت طے مانی جا رہی تھی، لیکن پرچہ خارج ہونے سے انتخاب بلا مقابلہ کی صورتِ حال میں چلا گیا۔ اس کے فوراً بعد نٹراجن نے اعلیٰ ترین عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ تاہم، سپریم کورٹ نے آئین کی دفعہ 329(بی) کے تحت انتخابی عمل میں براہِ راست مداخلت سے انکار کرتے ہوئے عرضی مسترد کر دی تھی اور انہیں ہائی کورٹ میں الیکشن پٹیشن دائر کرنے کو کہا تھا۔ اس کے بعد کانگریس رہنما نے جبل پور ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن