جو آج شروع ہوا، اسے انجام تک پہنچانا ہوگا : دہلی مظاہرے کے بعد مہوا موئترا کا نوجوانوں کے نام پیغام
کولکاتا، 21 جولائی (ہ س)۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے 20 جولائی کی رات تقریباً 10 بجے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر ایک طویل ویڈیو پیغام جاری کر کے دہلی میں ہوئے طالب علموں اور نوجوانوں کے مظاہرے کی حمایت کی۔ انہوں نے مظاہرے میں شامل
اپنا پیغام جاری کرتی ہوئی مہوا موئترا


کولکاتا، 21 جولائی (ہ س)۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے 20 جولائی کی رات تقریباً 10 بجے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر ایک طویل ویڈیو پیغام جاری کر کے دہلی میں ہوئے طالب علموں اور نوجوانوں کے مظاہرے کی حمایت کی۔ انہوں نے مظاہرے میں شامل نوجوانوں کی کھل کر تعریف کی اور مرکزی حکومت نیز دہلی پولیس پر شدید الزامات لگائے۔

مہوا موئترا نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’آج امت شاہ دہلی پولیس کمشنر سے پوچھ رہے ہوں گے- 'کتنے آدمی تھے؟ آپ نے انہیں دکھا دیا، جین زی، آپ نے انہیں دکھا دیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ ان تمام نوجوانوں کے لیے ’’بڑا سلام‘‘ ہے، جو جنتر منتر، جن پتھ، پٹیل چوک، پریس کلب اور دیگر مقامات پر مظاہرے میں شامل ہوئے، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا سامنا کیا اور ڈٹے رہے۔

انہوں نے کہا کہ مظاہرے کے دوران کئی نوجوانوں نے پولیس کارروائی کے ویڈیو ریکارڈ کیے، جس کی وجہ سے، ان کے مطابق، ’’گودی میڈیا اب سچائی چھپا نہیں سکے گا۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ویڈیو میں دہلی پولیس کے جوان خود پتھر اٹھا کر مظاہرین پر پھینکتے ہوئے دکھائی دئے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس مظاہرین کی پٹائی کرتے ہوئے گالی گلوچ کا استعمال کر رہی تھی۔ مہوا موئترا نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’کیا یہ امت شاہ کی زبان ہے یا امت شاہ کی وردی؟‘‘

مہوا موئترا نے کہا کہ 20 جولائی کا مظاہرہ تاریخی تھا، کیونکہ یہ کسی ایک لیڈر یا سیاسی پارٹی کی قیادت میں نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس کی قیادت نہ سونم وانگچک نے کی، نہ ابھجیت بھائی نے اور نہ ہی کسی سیاست داں نے۔ وہاں کوئی لیڈر نہیں تھا۔ یہ حکومت سے جواب دہی مانگنے کے لیے نوجوانوں کا خود ساختہ غصہ تھا۔‘‘

انہوں نے مظاہرے میں شامل نوجوانوں سے کہا کہ ’’آج جو آپ نے شروع کیا ہے، اسے راتوں رات ختم مت ہونے دیجیے۔ اسے اس کے منطقی انجام تک لے جائیے۔ حکومت سے جواب دہی مانگیے اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ جاری رکھیے۔‘‘

مہوا موئترا نے کہا کہ حکومت نے اس طرح کی بڑی عوامی حمایت کا تصور نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق، حکومت کو لگا تھا کہ صرف دو ہزار یا پانچ ہزار لوگ آئیں گے، لیکن بڑی تعداد میں نوجوانوں کے جمع ہونے سے حکومت حیران و ششدر رہ گئی۔

انہوں نے کہا، ’’آپ لوگوں نے آج تاریخ رقم کر دی ہے۔ براہِ کرم اسے جاری رکھیے۔ اپوزیشن یہ نہیں کر سکتا، سیاست داں یہ نہیں کر سکتے۔ یہ صرف اس ملک کے نوجوان ہی کر سکتے ہیں۔ آپ کے ساتھ عدم تشدد ہے، آپ کے ساتھ سچائی ہے اور دیر سویر حکومت کو آپ کی بات سننی ہی پڑے گی۔‘‘

مہوا موئترا نے الزام لگایا کہ حکومت یہ مان بیٹھی ہے کہ وہ ہر مسئلے پر بچ کرنکل سکتی ہے اور نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ بھی کھلواڑ کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان مسلسل پرامن طریقے سے سڑکوں پر اپنی آواز اٹھاتے رہے تو حکومت پر دباو بڑھے گا۔ انہوں نے کہا، ’’دیکھتے ہیں کہ وہ کب تک لاٹھیاں چلاتے ہیں، کب تک طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ پوری دنیا یہ دیکھے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔‘‘

اپنے پیغام کے آخر میں مہوا موئترا نے مظاہرے میں شامل تمام نوجوانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’’یہ تو صرف شروعات ہے۔ شاندار دن کے لیے آپ سبھی کا شکریہ۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande