ایم پی اسمبلی میں یو سی سی بل پر بحث کے دوران ہنگامہ، برسر اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان زوردار بحث
ایم پی اسمبلی میں یو سی سی بل پر بحث کے دوران ہنگامہ، برسر اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان زوردار بحث بھوپال، 21 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی میں مانسون اجلاس کے دوسرے دن منگل کے روزیکساں سول کوڈ (یونیفارم سول کوڈ- یو سی سی) بل پر بحث کے دو
ایم پی اسمبلی کا فائل فوٹو


ایم پی اسمبلی میں یو سی سی بل پر بحث کے دوران ہنگامہ، برسر اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان زوردار بحث

بھوپال، 21 جولائی (ہ س)۔

مدھیہ پردیش اسمبلی میں مانسون اجلاس کے دوسرے دن منگل کے روزیکساں سول کوڈ (یونیفارم سول کوڈ- یو سی سی) بل پر بحث کے دوران ایوان میں جم کر ہنگامہ ہوا۔ حزبِ اختلاف رہنما امنگ سنگھار بل کو سلیکٹ کمیٹی (پرور کمیٹی) کے پاس بھیجنے کے مطالبے پر مسلسل اصرار کرتے رہے، لیکن مطالبہ تسلیم نہیں کرنے پرایوان میں برسراقتداراورحزبِ اختلاف کے درمیان تیکھی نوک جھونک ہوئی۔

اسمبلی میں آج وزیرگوتم ٹیٹوال نے مدھیہ پردیش یکساں سول کوڈ بل 2026 پر بحث کے لیے ایوان میں تجویز پیش کی۔ اس دوران کانگریس رکن اسمبلی عاطف عقیل نے مجوزہ دفعات کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 29 کے تحت اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے، اس لیے قبائلیوں کی طرح اقلیتی طبقے کو بھی راحت دی جانی چاہیے اوراس تحفظ کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب مرکزی حکومت نے ابھی تک یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ نہیں کیا ہے، تو مدھیہ پردیش میں اسے اتنی جلد بازی میں لانے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ بل سیاسی ایجنڈے کے تحت لایا جا رہا ہے۔

وہیں کانگریس رکن اسمبلی عارف مسعود نے بل میں ترمیم کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یو سی سی میں کافی خامیاں ہیں۔ اتنی جلد بازی میں یو سی سی کو کیوں لایا گیا ہے؟ دو بیویوں پر یو سی سی کو لے کر بحث ہو رہی ہے۔ میاں بیوی کے جھگڑے سول سے کرائم میں لائے جا رہے ہیں۔ مسلم طبقے کو دفعہ 29 کے تحت حق حاصل ہے کہ وہ اپنی روایت کے مطابق چل سکیں۔ یو سی سی میں مسلمانوں کو بھی درج فہرست ذات (شیڈولڈ کاسٹ) کی طرح راحت دی جائے۔

اس پر پارلیمانی امور کے وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے پوائنٹ آف آرڈر کے تحت کانگریس کے الزامات کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل صرف حکومت نہیں لائی ہے، بلکہ عوام کی تجاویز کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو سی سی جیسا قانون صرف مدھیہ پردیش میں ہی نہیں، بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی لاگو کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایک ملک، ایک نشان، ایک آئین، ایک سربراہ‘‘ کے جذبے کے تحت یہ پہل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ صرف حکومت کا فیصلہ نہیں، بلکہ عوام کی رائے کا عکس ہے۔ یو سی سی کے سلسلے میں تقریباً 10 لاکھ لوگوں نے اپنی تجاویز اور آراء دی ہیں۔

رکن اسمبلی عارف مسعود نے کہا کہ وزیر جی نے بات کو اچھے سے گھمایا ہے۔ چھ ماہ میں آپ نے کام کیا ہے، جب آپ کے پاس اعداد 22 سو تھے۔ انہوں نے اقلیت کو آرٹیکل 29 میں دی گئی چھوٹ کا جواب مانگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک آئین سے ایک ذات کو الگ رکھا گیا ہے تو مسلمانوں کو بھی الگ رکھنا چاہیے۔ یہ قانون لا کر ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت سے پہلے آپ کو لانا ہے تو کمیٹی کو بھیجیے بحث کروائیے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 29 کا تحفظ ہم آپ سے چاہتے ہیں۔ آرٹیکل 29 میں مسلمانوں کو تحفظ دیا گیا ہے۔ آرٹیکل 29 کی حفاظت کے لیے سلیکٹ کمیٹی میں بل کو بھیجا جانا چاہیے۔

حزبِ اختلاف رہنما سنگھار نے پوائنٹ آف آرڈر کے تحت قانون سازی کے عمل پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ قواعد کے مطابق دو دن پہلے کارروائی (پروسیڈنگ) میں ترتیب دی جانی چاہیے تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایسے میں یہ بل ایوان میں کیسے لایا گیا۔ اس پر اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کئی بار خاص حالات میں اسی دن بل پیش کر کے اس پر بحث کرائی جا سکتی ہے۔ اس لیے اس معاملے میں ضابطے کے مطابق ہی کارروائی کی گئی ہے۔

اس دوران ایوان میں کانگریس اور بی جے پی رکن اسمبلی کے درمیان تیکھی بحث شروع ہو گئی۔ کانگریس کے تمام اراکین اسمبلی اپنی نشستوں سے اٹھ کر ڈائس (ویل) کے پاس پہنچ گئے اور یو سی سی بل کی مخالفت میں نعرے بازی کرنے لگے۔ دوسری طرف بی جے پی اراکین اسمبلی اور وزراء اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے اور بل پر بحث جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے رہے۔ اس دوران کانگریس اور بی جے پی اراکین اسمبلی کے درمیان شدید بحث شروع ہو گئی۔ ہنگامے کے بیچ اسمبلی اسپیکر تومر نے ایوان کی کارروائی 10 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔ کانگریس اراکین اسمبلی ویل میں پہنچ کر نعرے بازی کر رہے تھے، جبکہ بی جے پی اراکین اسمبلی اور وزراء بل پر بحث جاری رکھنے کے مطالبے پر اڑے رہے۔

10 منٹ کے التوا کے بعد ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو نائب وزیرِ اعلیٰ جگدیش دیوڑا نے ایوان میں ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگایا۔ اس پر ہنگامہ ہوا۔ اسی دوران حزبِ اختلاف رہنما سنگھار نے یو سی سی بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ پھر اٹھایا۔ اس پر اسمبلی اسپیکر تومر نے کہا کہ ترمیم پر بحث کے دوران وہ اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔ اسپیکر نے یہ بھی کہا کہ اگر حزبِ اختلاف رہنما پہلے بولنا چاہتے ہیں تو بالادست حق کے تحت انہیں بی جے پی رکن سے پہلے بولنے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔

اس دوران کانگریس رکن اسمبلی ایوان میں مسلسل نعرے بازی اور ہنگامہ کرتے رہے، جبکہ اسمبلی اسپیکر نے بی جے پی اراکین سے بل پر رائے لینا شروع کر دیا۔ وزیر پہلاد پٹیل نے کانگریس کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمت ہے تو بل پر بحث میں حصہ لے۔ اس پر امنگ سنگھار نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میں ہمت تھی تو یو سی سی کو پہلے دہلی میں کیوں لاگو نہیں کیا گیا۔

ہنگامے کے دوران کانگریس رکن اسمبلی نے او بی سی تحفظات (رزرویشن) کا مسئلہ بھی اٹھایا اور ’’او بی سی تحفظات دینا ہوگا‘‘ کے نعرے لگائے۔ کانگریس کی طرف سے قبائلی احترام کی حمایت میں نعرے بازی کی گئی، جبکہ بی جے پی رکن اسمبلی اپنی نشستوں سے حکومت کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ یو سی سی بل پر جاری ہنگامے کے بیچ اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے کانگریس اراکین اسمبلی سے کھڑے ہو کر ایوان میں بحث میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اپنی بات بحث کے دوران رکھے گا، تو اس کے اعتراضات اور مسائل کا حل بھی نکل سکے گا۔

تاہم کانگریس اراکین اسمبلی اپنے مطالبے پر بضد رہے۔ انہوں نے یو سی سی بل کو غیر ضروری بتاتے ہوئے ایوان میں او بی سی تحفظات کا مسئلہ اٹھایا اور تحفظات کے مطالبے کو لے کر نعرے بازی جاری رکھی۔ ہنگامے کے درمین اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ اس طرح کے ماحول میں ایوان کی کارروائی چلانا مناسب نہیں ہے۔ اس کے باوجود کانگریس اراکین اسمبلی نہیں مانے اور ویل میں کھڑے ہو کر نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھا۔

کانگریس رکن اسمبلی نعرے لگاتے رہے کہ پہلے یو سی سی کو دہلی میں نافذ کرایا جائے اور وزیرِ اعظم نریندر مودی سے اسے منظور کرایا جائے، اس کے بعد مدھیہ پردیش میں نافذ کرنے کی بات کی جائے۔ ہنگامے کے دوران کانگریس نے مرکزی حکومت کے خلاف بھی نعرے لگائے اور ’’مودی مخالف... یہ حکومت نہیں چلے گی، نہیں چلے گی‘‘ جیسے نعرے ایوان میں گونجتے رہے۔

یو سی سی بل پر جاری ہنگامے کے بیچ وزیرراکیش سنگھ نے کہا کہ یکساں سول کوڈ سبھی کے مفاد میں ہے اور اس کی مخالفت نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی مخالفت کرنے والوں کو مستقبل میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اسمبلی اسپیکر نے ایک بار پھر برسر اقتدار اور اپوزیشن کے اراکین سے بحث آگے بڑھانے اور ایوان کی کارروائی میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ تاہم ہنگامہ نہیں تھما اور کانگریس اراکین اسمبلی مسلسل نعرے بازی کرتے رہے۔ اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande