منی پور میں کے سی پی (پی ڈبلیو جی) کے 46 عسکریت پسندوں نے خودسپردگی کی ، 28 جدید ہتھیار بھی سونپے
امپھال، 21 جولائی (ہ س)۔ منی پور میں عسکریت پسندی کے خلاف مہم کے تحت سکیورٹی فورسز کو پیر کے روز بڑی کامیابی ملی۔ ممنوعہ تنظیم کنگلیپک کمیونسٹ پارٹی (کے سی پی) (پیپلز وار گروپ) کے 46 فعال عسکریت پسندوں نے وزیراعلیٰ وائی۔ کھیمن چند سنگھ کی موجودگی م
منی پور میں کے سی پی (پی ڈبلیو جی) کے 46 عسکریت پسندوں نے خودسپردگی کی ، 28 جدید ہتھیار بھی سونپے


امپھال، 21 جولائی (ہ س)۔ منی پور میں عسکریت پسندی کے خلاف مہم کے تحت سکیورٹی فورسز کو پیر کے روز بڑی کامیابی ملی۔ ممنوعہ تنظیم کنگلیپک کمیونسٹ پارٹی (کے سی پی) (پیپلز وار گروپ) کے 46 فعال عسکریت پسندوں نے وزیراعلیٰ وائی۔ کھیمن چند سنگھ کی موجودگی میں امپھال ایسٹ ضلع کے منترپکھری واقع آسام رائفلز (ساؤتھ) ہیڈکوارٹر میں خودسپردگی کرتے ہوئے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر عسکریت پسندوں نے 28 جدید ہتھیاروں کے ساتھ بڑی مقدار میں گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا۔

خودسپردگی کی تقریب میں ریاستی حکومت کے وزیر داخلہ، آرٹ اینڈ کلچر اور سیاحت کے وزیر کے علاوہ کئی اعلیٰ انتظامی اور سکیورٹی افسران موجود تھے۔ ان میں منی پور حکومت کے چیف سکریٹری، سکیورٹی ایڈوائزر، اسپئیر کورپس کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)، منی پور کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی)، آسام رائفلز (ساؤتھ) کے انسپکٹر جنرل (آئی جی)، ہوم کمشنر، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی)، اراکین اسمبلی، دیگر اعلیٰ افسران اور سکیورٹی ایجنسیوں کے نمائندے شامل تھے۔

خودسپردگی کرنے والے عسکریت پسندوں نے رضاکارانہ طور پر 28 ہتھیار سکیورٹی فورسز کے حوالے کیے۔ ان میں اے کے سیریز کی رائفلیں، .303 رائفلیں، انساس رائفل، سیلف لوڈنگ رائفل (ایس ایل آر)، کاربائن، پستول، ڈبل بیرل اور سنگل بیرل بندوقیں، ساتھ ہی راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ (آر پی جی) لانچر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں میگزین، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

سکیورٹی حکام کے مطابق یہ خودسپردگی اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس گروپ کے ارکان ماضی میں کسی بھی امن معاہدے کا حصہ نہیں رہے ہیں۔ کنگلیپک کمیونسٹ پارٹی (کے سی پی) کی بنیاد 14 اپریل 1980 کو وائی۔ ایبوہانبی اور ایبوپشاک نے رکھی تھی۔ وقت کے ساتھ نظریاتی اختلافات کے باعث تنظیم کئی دھڑوں میں تقسیم ہو گئی، جن میں پیپلز وار گروپ (پی ڈبلیو جی) سب سے زیادہ فعال اور پرتشدد گروپوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ اس گروپ کی سرگرمیاں بنیادی طور پر امپھال ایسٹ، امپھال ویسٹ اور کاکچنگ سمیت وادی کے کئی اضلاع تک محدود رہی ہیں۔

سکیورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں کے سی پی (پی ڈبلیو جی) کے پانچ سے 12 ارکان ہی مختلف اوقات میں خودسپردگی کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں ایک ساتھ 46 فعال عسکریت پسندوں کا ہتھیار ڈالنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ تاہم حکام نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس سے تنظیم مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے، لیکن ان کا ماننا ہے کہ اس پیش رفت سے تنظیم کی آپریشنل صلاحیت اور اس کے نیٹ ورک کو بڑا نقصان پہنچا ہے، جس سے وادی کے علاقے میں اس کی سرگرمیوں اور اثر و رسوخ کے کمزور ہونے کا امکان ہے۔

حکام کے مطابق یہ کامیابی آسام رائفلز، منی پور پولیس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری مشترکہ کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ ریاستی حکومت کے تعاون اور سکیورٹی فورسز کے متوازن اور عوامی مرکز پر مبنی رویے نے عسکریت پسندوں کو تشدد کا راستہ چھوڑ کر مرکزی دھارے میں واپس آنے کے لیے آمادہ کیا۔

سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ اس اجتماعی خودسپردگی سے ریاست میں طویل عرصے سے متاثر ترقیاتی منصوبوں کو رفتار ملے گی، عوامی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں آنے والی رکاوٹیں کم ہوں گی اور خطے میں امن، سلامتی اور سماجی و اقتصادی ترقی کو نئی مضبوطی ملے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande