پاکستان کو ہندوستان کی دو ٹوک، سندھ طاس معاہدہ اب پرانی شکل میں واپس نہیں لوٹے گا
نئی دہلی، 21 جولائی (ہ س)۔ پاکستان کی جانب سے کینیڈا سے ثالثی کی کوششوں کے درمیان ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ، اپنی موجودہ شکل میں دوبارہ نافذ نہیں ہوگا۔ حکومت ہند کی پالیسی سے واقف ذرائع نے ہندوستھان سماچار سے بات چیت میں ک
علامتی تصویر


نئی دہلی، 21 جولائی (ہ س)۔ پاکستان کی جانب سے کینیڈا سے ثالثی کی کوششوں کے درمیان ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ، اپنی موجودہ شکل میں دوبارہ نافذ نہیں ہوگا۔

حکومت ہند کی پالیسی سے واقف ذرائع نے ہندوستھان سماچار سے بات چیت میں کہا، ’’اپنی موجودہ شکل میں سندھ طاس معاہدہ پھر سے کام نہیں کرے گا۔ اور یہ کہ اس معاہدے میں رہنا ہندوستان کے مفاد میں نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے معاہدے کو ناکارہ بتاتے ہوئے کہا، ’’ہندوستان نے یہ معاہدہ نقصان اٹھا کر بھی حسنِ نیت اور دوستی کے جذبے سے کیا تھا لیکن چار دہائیوں سے سرحد پار دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر بے شرمی سے بڑھا کر پاکستان نے معاہدے میں مذکور حسنِ نیت کی خلاف ورزی کی ہے۔ معاہدے کی بنیاد کو ہی مسمار کر دیا گیا ہے۔‘‘

ہندوستان کا کہنا ہے کہ جہاں اس نے جنگوں کے دوران بھی چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک معاہدے کا احترام کیا، وہیں پاکستان کی مسلسل سرحد پار دہشت گردی (پارلیمنٹ، ممبئی، اڑی، پلوامہ اور پہلگام پر حملوں سمیت) نے معاہدے کے لیے ضروری باہمی اعتماد اور برابری کے جذبے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

ہندوستان نے پاکستان کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کی طرف سے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد 2025 میں معاہدے کو معطل کر دیا تھا- 2025 سے پہلے کے ڈھانچے پر واپسی اب ’’ممکن نہیں‘‘ ہے۔

ذرائع نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی قانون کے تحت، دہشت گردی کا استعمال ریاستی پالیسی کے طور پر کرنا خود ہی ایک خلاف ورزی ہے۔ مستقبل کا کوئی بھی معاہدہ، اگر بات چیت کی جاتی ہے، تو آج کی حقیقتوں جیسے موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئر کا پگھلنا، پانی کی منتقلی کا علم (ٹرانسفر ہائیڈرولوجی)، بڑھتی ہوئی مانگ، نئی ٹیکنالوجی اور سکیورٹی خدشات کی عکاسی کرے گا۔

ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے نے طویل عرصے سے سندھ سسٹم کے پانی کو تقسیم کیا ہے، جس سے پاکستان کو تین مغربی ندیوں (سندھ، جہلم، چناب) کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ ملا ہے، جبکہ ہندوستان کو مشرقی ندیوں (راوی، بیاس، ستلج) کے محدود استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن ہندوستان کا کہنا ہے کہ یہ نظام ’’ایک طرفہ‘‘ ہے اور دہائیوں کے بعد آج کے وقت میں مکمل طور پر غیر عملی ہے۔

ذرائع نے کہا، ’’پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے پر اپنی حمایت قابلِ اعتماد طریقے سے چھوڑنے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے پر کوئی بھی مثبت قدم مکمل طور پر پاکستان کے اقدامات پر منحصر ہے۔ انہوں نے ابھی بھی عوامی پروگراموں میں دکھائی دینے والے اور پاکستان کے اندر ہندوستان کے خلاف پیغامات کی تشہیر کرنے والے پابندی شدہ افراد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’پاکستان کی حکومت کی طرف سے اس بارے میں کوئی قابلِ اعتماد قدم نہیں اٹھائے گئے ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں ذرائع نے واضح کیا کہ معاہدے کے ملتوی ہونے سے مستقل سندھ کمیشن کی میٹنگیں، دورے، معائنے، ڈیٹا کا تبادلہ اور ’غیر جانبدار ماہر‘ جیسے تنازعات کے حل کے طریقوں میں شراکت سمیت تمام ادارہ جاتی نظام مکمل طور پر غیر فعال ہو گئے ہیں۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ہندوستان سیلاب کے اعداد و شمار شیئر کرے گا، ذرائع نے کہا کہ یہ پچھلے سال کی طرح اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے ذریعے بھی ہوتا رہے گا۔

اس دوران، ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ سندھ کے پانی کے مکمل استعمال کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ دو اہم پروجیکٹ، 624 میگاواٹ کا کیرو اور 1000 میگاواٹ کا پاکل دل ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ، اس سال چالو ہونے والے ہیں۔ ہندوستان آنے والے سالوں میں جموں و کشمیر میں مزید 5500 میگاواٹ جوڑنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس میں 1856 میگاواٹ کا ساولکوٹ، 850 میگاواٹ کا رتلے، 240 میگاواٹ کا اڑی 1 اور 2260 میگاواٹ کا دولہستی- 2 اور 540 میگاواٹ کا کوار پروجیکٹ شامل ہیں۔ ان میں سے کئی پروجیکٹوں کی طویل عرصے سے پاکستان کی طرف سے مخالفت کی گئی تھی۔

ذرائع نے کہا، ’’ہندوستان نے بغلیہار سے تلبل تک 70 سے زیادہ پروجیکٹوں کے بارے میں معلومات دی ہیں، جن پر پاکستان نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ 2023 میں، ہندوستان نے پھر سے بات چیت کا مطالبہ کیا، لیکن پاکستان ٹھوس بحث سے بچتا رہا۔‘‘

ذرائع نے پاکستان کے ریکارڈ کے ساتھ ہندوستان کے نقطۂ نظر کا موازنہ کیا۔ ’’سندھ سسٹم سے ہندوستان کے پورے حصے کے مقابلے میں پاکستان کے حصے کا زیادہ پانی برباد ہو جاتا ہے‘‘، انہوں نے کہا۔ پاکستان نے دہائیوں میں کوئی بڑا نیا واٹر اسٹوریج نہیں بنایا ہے، اپنے تقریباً 50 فیصد پانی کو برباد کر دیا ہے اور بین الصوبائی تنازعات کا شکار ہے۔ سندھ اور خیبر پختونخوا کی مخالفت کے درمیان طویل عرصے سے مجوزہ کالا باغ ڈیم رکا ہوا ہے۔ منگلا ڈیم نے پہلے ہی مٹی جمنے کی وجہ سے اپنی صلاحیت کا 12 فیصد حصہ کھو دیا ہے۔

پاکستان کی طرف سے معاہدے کی باقاعدہ رکاوٹ اور غلط استعمال کا ذکر کرتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے مغربی ندیوں پر ہندوستان کے جائز ترقیاتی پروجیکٹوں میں مسلسل رکاوٹ ڈالی ہے۔ اس میں ایک دور دراز قبائلی علاقے کے لیے بنائے گئے محض 200 کلوواٹ کے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ سے لے کر سلال، تلبل، بغلیہار، کشن گنگا، رتلے اور پاکل دل جیسے بڑے پروجیکٹوں پر طویل عرصے تک اعتراضات اٹھانا شامل ہے۔

تنازعات کے نظام کے غلط استعمال کو لے کر ہندوستان نے پاکستان کی طرف سے تنازعات کے حل کی دفعات کو پروجیکٹوں میں تاخیر کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ پاکستان نے باقاعدہ تکنیکی مسائل کو تیسرے فریق کے فورمز پر گھسیٹا اور معاہدے کے مرحلہ وار ڈھانچے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر جانبدار ماہر اور ثالثی عدالت دونوں کے سامنے متوازی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ذرائع نے کہا کہ ہندوستان کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ ثالثی عدالت کا قیام غیر قانونی طور پر کیا گیا ہے اور وہ اس کے وجود، کارروائی یا کسی بھی فیصلے کو مکمل طور پر کالعدم اور قانونی اثر کے بغیر مانتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande