
نئی دہلی، 21 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے یو اے پی اے معاملے میں کشمیری انسانی حقوق کارکن خرم پرویز اور صحافی عرفان مہراج کو ٹرائل کورٹ سے ملی ضمانت کو چیلنج کرنے والی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی عرضی خارج کر دی ہے۔ جسٹس پرتیبھا سنگھ کی سربراہی والی بنچ نے عرضی خارج کرنے کا حکم دیا۔
ہائی کورٹ نے 20 جولائی کو نوٹس جاری کیا تھا۔ ہائی کورٹ کے اس حکم کے بعد خرم پرویز اور صحافی عرفان مہراج کی رہائی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ این آئی اے نے ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے 18 جولائی کو دونوں کو ضمانت دینے کا حکم دیا تھا۔ اس سے قبل خرم پرویز کو دہلی ہائی کورٹ نے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے معاملے میں ضمانت دی تھی۔
خرم پرویز جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کا پروگرام کوآرڈینیٹر اور ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوالنٹری ڈس اپیئرنسز کا چیئرمین ہے۔ اسے این آئی اے نے 22 نومبر 2021 کو گرفتار کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق خرم پرویز بھارت میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے انسانی حقوق کارکن کی آڑ میں لشکر طیبہ کے ایک رکن کے ساتھ اوور گراؤنڈ ورکرز کے نیٹ ورک کو چلا رہا تھا۔
این آئی اے نے اس معاملے میں نومبر 2021 میں مقدمہ درج کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق پاکستان میں موجود لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے خرم پرویز، منیر احمد قطاریہ، ارشد احمد ٹونچ اور ظفر عباس کے ساتھ مل کر لشکر طیبہ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے اور بھارت میں دہشت گردانہ واقعات کے لیے ایک نیٹ ورک چلانے کی سازش رچی تھی۔ ملزمان نے سیکیورٹی فورسز کی اہم تنصیبات، تعیناتی اور نقل و حرکت سے متعلق معلومات جمع کر کے لشکر طیبہ تک پہنچائی تھیں۔ اس کے علاوہ ہماچل پردیش کے رہنے والے ایک سرکاری افسر نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے انہیں سرکاری دستاویزات فراہم کیے تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد