
ایم پی اسمبلی میں پہلا ضمنی بجٹ پیش، حکومت نے 7,765.77 کروڑ روپے کا انتظام کیا، کل بحث ہوگی
۔ آبپاشی، سڑک، ٹرانسپورٹ اور کسانوں پر خصوصی توجہ
بھوپال، 21 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش حکومت نے اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوسرے دن منگل کے روز ایوان میں مالی سال 27-2026 کے لیے پہلا ضمنی بجٹ پیش کیا۔ اس میں کل 7,765.77 کروڑ روپے کا پروویژن تجویز کیا گیا ہے۔ اب اس پر بدھ، 22 جولائی کو ایوان میں بحث ہوگی۔
اسمبلی کے مانسون اجلاس کے آج دوسرے دن نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر ماليات جگدیش دیوڑا نے مالی سال 27-2026 کا پہلا ضمنی بجٹ 7,765.77 کروڑ روپے ایوان میں پیش کیا۔ اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے بجٹ پر بحث کے لیے وقت مقرر کرتے ہوئے بتایا کہ 22 جولائی کو ایوان میں اس پر تفصیلی بحث ہوگی۔ بجٹ میں 907.59 کروڑ روپے ریونیو مد اور 6,858.18 کروڑ روپے کیپیٹل مد کے لیے رکھے گئے ہیں۔ ضمنی بجٹ میں آبپاشی پروجیکٹوں، سڑکوں کی تعمیر، کسانوں کے مفاد، پولیس کی جدید کاری، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور سیاحت سمیت کئی اہم شعبوں کے لیے اضافی رقم کا انتظام کیا گیا ہے۔
ضمنی تخمینے میں نرمدا گھاٹی ترقیاتی محکمہ کو سب سے زیادہ 3,000 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ رقم مختلف آبپاشی پروجیکٹوں اور اراضی کے حصول کے کاموں پر خرچ کی جائے گی۔ وہیں محکمہ خوراک، شہری سپلائی اور تحفظِ صارف کے تحت پیداوار خریداری اداروں کو قرض فراہم کرنے کے لیے 2,220.62 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔
محکمۂ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کو سینٹرل روڈ فنڈ، دیہی و ضلع سڑکوں کی تعمیر و توسیع، اراضی کے حصول کا معاوضہ، بڑے پلوں کی تعمیر، سڑکوں کو مضبوط بنانے اور بی او ٹی پروجیکٹوں کی ادائیگی کے لیے 1,300 کروڑ روپے دیے جائیں گے۔ وہیں محکمۂ ماليات کے لیے نیشنل ڈزاسٹر ریسپانس فورس میں منتقل کی گئی رقم کے طور پر 397.54 کروڑ روپے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
کسانوں کو راحت دینے کے مقصد سے کسان ویلفیئر اور زرعی ترقیاتی محکمہ کے تحت بھوانتر/ فلیٹ ریٹ اسکیم کے لیے 313.18 کروڑ روپے اور کپاس کی پیداوار سے متعلق مشن کے لیے 39.51 کروڑ روپے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
محکمۂ ٹرانسپورٹ کے تحت مکھیا منتری سوگم پریوہن سیوا یوجنا کے لیے 101 کروڑ روپے اور پی ایم ای-بس سیوا یوجنا کے لیے 28.26 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ وہیں اربن ڈویلپمنٹ اور ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے بھی پی ایم ای-بس سیوا یوجنا کے لیے 21.41 کروڑ روپے کا اضافی اہتمام رکھا گیا ہے۔
محکمۂ داخلہ میں انٹر آپریبل کرمنل جسٹس سسٹم (آئی سی جے ایس) کے لیے 98.83 کروڑ روپے اور پولیس فورس کی جدید کاری کے لیے 58.52 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔
تعلیمی شعبے میں ذہین طلباء کے لیے لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی اسکیم کے لیے 58.07 کروڑ روپے اور پردھان منتری اوچتر شکشا ابھیان (پی ایم-اوشا) کے لیے 50 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ سیاحتی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے 30 کروڑ روپے، اٹل بہاری واجپئی سُشاسن اینڈ پالیسی انالیسس انسٹی ٹیوٹ کے لیے 25 کروڑ روپے، واٹر ریسورسز ڈپارٹمنٹ میں ڈگری کی رقم کی ادائیگی کے لیے 10 کروڑ روپے اور خانہ بدوش و نیم خانہ بدوش قبائل کے ہاسٹل و اسکارلشپ اسکیموں کے لیے 6.02 کروڑ روپے کا انتظام بھی شامل ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن