
چنڈی گڑھ، 21 جولائی(ہ س)۔
مجوزہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف دہلی مارچ کے لیے شمبھو بارڈر پر جمع ہونے والے پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے فی الحال اپنا احتجاج مؤخر کرتے ہوئے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شمبھو اور کھنوری بارڈر سے کسان اپنے گھروں کو روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
بارڈر پر دن بھر جاری کشیدگی کے بعد ہریانہ کے وزیر زراعت شیام سنگھ رانا اور کسان رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دو اہم مطالبات پر اتفاق رائے ہونے کے بعد کسان تنظیموں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔
منگل کے روز شمبھو بارڈر پر وزیر زراعت شیام سنگھ رانا نے کسان رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اجلاس میں کسانوں کے دو اہم مطالبات پر مثبت پیش رفت ہوئی۔ وزیر زراعت نے کسان نمائندوں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان سے جلد بات چیت کرائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے کسان رہنماؤں اور دیگر کسانوں کی رہائی کا بھی یقین دلایا گیا۔
کسان رہنماؤں کے مطابق حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مجوزہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے آئندہ ایک ہفتے کے اندر کسان تنظیموں اور مرکزی حکومت کے درمیان مذاکرات کرائے جائیں گے۔ اس یقین دہانی کے بعد کسان تنظیموں نے اپنا دھرنا ختم کرنے اور شنبھو بارڈر خالی کرنے کا فیصلہ کیا۔
پٹیالہ پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ کسان تنظیموں نے آئندہ چند گھنٹوں میں قومی شاہراہ مکمل طور پر خالی کرنے کی اطلاع دی ہے۔ کسانوں کی واپسی کے بعد شنبھو بارڈر پر ٹریفک کی آمد و رفت بتدریج معمول پر آنے کی توقع ہے۔
بھارتیہ کسان یونین (شہید بھگت سنگھ) کے ترجمان تیجویر سنگھ نے کہا کہ حکومت کی یقین دہانی کے بعد کسانوں نے پرامن طریقے سے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی تجارتی معاہدے میں کسانوں اور زرعی شعبے کے مفادات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
اس سے قبل منگل کی صبح پنجاب کے مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں کسان دہلی کے کسان گھاٹ پر منعقد ہونے والی مہاپنچایت میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ یہ مہاپنچایت ’دیش بچاؤ مورچہ‘کے بینر تلے مجوزہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف طلب کی گئی تھی۔
کسانوں کے دہلی مارچ کے پیش نظر شمبھو بارڈر پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور بیریکیڈنگ کر کے راستہ بند کر دیا گیا تھا، جس کے باعث قومی شاہراہ پر ٹریفک متاثر ہوئی اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان اتفاق رائے کے بعد اب کسان واپس لوٹ رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan