
نئی دہلی، 21 جولائی(ہ س)۔ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب احتجاج کرنے والے کانگریس رہنما راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد الزام عائد کیا کہ اپوزیشن لیڈر اپنے وعدے سے مکر گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی نے پہلے کہا تھا کہ اگر حکومت پارلیمنٹ میں ’نیٹ‘ اور اس سے متعلق معاملات پر بحث کے مطالبے کو قبول کر لے تو وہ احتجاج ختم کر دیں گے، لیکن حکومت کی جانب سے مطالبہ مان لیے جانے کے باوجود انہوں نے دھرنا ختم نہیں کیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت’نیٹ‘ اور اس سے متعلق جاری احتجاج سمیت تمام امور پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے اب تک اس اہم مسئلے پر پارلیمانی قواعد کے مطابق باضابطہ بحث کے لیے کوئی نوٹس نہیں دیا۔ ان کے مطابق راہل گاندھی کا طرزِ عمل جمہوری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔مرکزی وزیر کے مطابق راہل گاندھی اچانک اپنے حامیوں کے ساتھ اکبر روڈ کے قریب دھرنے پر بیٹھ گئے تھے۔ حکومت نے ان سے بات چیت کے لیے ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن کو بھیجا تھا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ ملاقات کے دوران راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں ’نیٹ‘ اور اس سے متعلق تحریک کے تمام معاملات پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ مطالبہ تسلیم ہونے پر وہ فوراً دھرنا ختم کر دیں گے۔ان کے مطابق، جب حکومت نے یہ مطالبہ قبول کر لیا تو راہل گاندھی نے مؤقف بدلتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا بھی مطالبہ کر دیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا،’راہل گاندھی جیسے سینئر رہنما کا اتنی جلدی اپنے ہی بیان سے مکر جانا مناسب نہیں۔ جب ہم نے اس پر اعتراض کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ان کی مرضی ہے۔ اسی طرح جب مرکزی داخلہ سکریٹری نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ مقام دھرنے کے لیے موزوں نہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ جہاں چاہیں بیٹھ سکتے ہیں، یہ بھی ان کی مرضی ہے۔حکومت کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ’نیٹ‘ امتحان سے متعلق مسائل اور طلبہ کے احتجاج کا معاملہ ملک بھر میں سیاسی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan