
نئی دہلی، 21 جولائی (ہ س): دہلی حکومت دارالحکومت کے لال ڈورا اور گاؤں کی آبادی کو ان کی جائیدادوں کا جدید، شفاف اور محفوظ ڈیجیٹل ریکارڈ فراہم کرنے کی سمت تیزی سے کام کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی صدارت میں محکمۂ محصولات کے جائزہ اجلاس میں سوامیتوا اسکیم پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت جامع سروے، ڈیجیٹل ریکارڈ کی تیاری اور اسمارٹ پراپرٹی کارڈ جاری کیے جائیں گے۔
منگل کو جاری بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ برسوں سے لال ڈورا علاقوں میں جائیدادوں کا مستند اور منظم ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب دہلی حکومت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر جائیداد کی واضح شناخت کو یقینی بنا رہی ہے، جس سے مستقبل میں ریکارڈ زیادہ شفاف، محفوظ اور منظم ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت جلد ہی اہل شہریوں کو اسمارٹ پراپرٹی کارڈ جاری کرے گی، جس کے لیے ایک خصوصی تقریب بھی منعقد کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق فی الحال 48 گاؤں کو سروے آف انڈیا کے ساتھ معاہدے کے تحت اس منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سے 30 گاؤں کا سروے مکمل ہو چکا ہے اور ان کے حتمی پراپرٹی کارڈ بھی تیار کر لیے گئے ہیں۔ اب ان کارڈز پر ڈیجیٹل دستخط شامل کرنے اور اسمارٹ کارڈ جاری کرنے کا عمل آخری مرحلے میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 12,232 اثاثہ جات کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے، جن میں 8,423 جائیدادیں کسی بھی تنازعہ سے پاک ہیں، جو کل سروے شدہ جائیدادوں کا تقریباً 69 فیصد بنتی ہیں۔ ان جائیدادوں کے لیے اسمارٹ پراپرٹی کارڈ جاری کرنے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ جنوبی اور شمال مغربی اضلاع میں سروے شدہ تمام جائیدادیں تنازعات سے پاک ہیں، جبکہ دیگر اضلاع میں بھی تنازعات کے حل کے ساتھ کارروائی آگے بڑھ رہی ہے۔
ریکھا گپتا نے کہا کہ یہ منصوبہ صرف کاغذی ریکارڈ تک محدود نہیں بلکہ مکمل طور پر جدید ڈیجیٹل نظام پر مبنی ہے۔ اس کے تحت پہلے لال ڈورا علاقے کی حدود کا تعین کیا جاتا ہے، پھر سروے آف انڈیا ڈرون کی مدد سے پورے گاؤں کا فضائی سروے کرتا ہے۔ اس کے بعد محکمۂ محصولات کے افسران زمینی سطح پر ڈرون سے حاصل شدہ نقشے کا حقیقت سے موازنہ کرتے ہیں۔ اگر کسی قسم کی خامی سامنے آتی ہے تو اس کی رپورٹ سروے آف انڈیا کو بھیجی جاتی ہے تاکہ ضروری اصلاحات کی جا سکیں۔
اسکے بعد ہر جائیداد کا ریکارڈ تیار کرکے اسے ایک منفرد پراپرٹی آئیڈینٹیفکیشن نمبر (پی آئی ڈی) دیا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر سرکاری پراپرٹی کارڈ تیار کر کے متعلقہ مالک کے حوالے کیا جائے گا۔ اس کے بعد پورے ریکارڈ کو دہلی آن لائن رجسٹریشن انفارمیشن سسٹم (ڈو او آئی آر ایس) سے ریئل ٹائم میں منسلک کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ریکارڈ مسلسل اپ ڈیٹ ہوتا رہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ دہلی حکومت شہریوں کو جدید اور محفوظ ڈیجیٹل دستاویزات فراہم کرنے کے لیے پی وی سی پر مبنی اعلیٰ معیار کے اسمارٹ سوامیتوا پراپرٹی کارڈ جاری کرے گی، جو یو آئی ڈی اے آئی کے معیارات کے مطابق ہوں گے۔
ہر کارڈ پر پراپرٹی آئیڈینٹیفکیشن نمبرجاری کرنے کی تاریخ، گاؤں، سب ڈویژن، ضلع، قابض یا مالک کا نام، والد یا شوہر کا نام، ملکیت کا حصہ، کل رقبہ، تعمیر شدہ اور کھلا حصہ، جیو بیس نمبر، شریک مالکان کی تفصیلات اور رابطہ نمبر درج ہوگا۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق ہر اسمارٹ کارڈ پر کیو آر کوڈ بھی موجود ہوگا۔ اس کوڈ کو اسکین کرتے ہی متعلقہ جائیداد کا مکمل ڈیجیٹل فارم-13 دستیاب ہوگا، جس میں جائیداد کا تفصیلی نقشہ، چاروں سمتوں کی حدود، پڑوسی جائیدادوں کے پی آئی ڈی، کھسرا نمبر، شریک مالکان اور خاندان کی معلومات، تحصیلدار کے ڈیجیٹل دستخط، سرکاری مہر اور دہلی آبادی دہ سروے و ریکارڈ مینجمنٹ رولز 2025 کی دفعہ 36 کے تحت جاری کردہ قانونی قبضہ سرٹیفکیٹ بھی شامل ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد