(اپ ڈیٹ) راہل گاندھی کی لوگوں سے وزیراعظم کی رہائش گاہ پہنچنے کی اپیل ، کانگریس لیڈر سے بات چیت کے لئے پہنچے مرکزی وزیر
نئی دہلی، 21 جولائی (ہ س) منگل کو کانگریس پارٹی نے طلبہ پرلاٹھی چارج اور طاقت کے استعمال کے خلاف وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کرکے احتجاج کیا۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اس پروگرام میں شرکت کی اور عوام سے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہونے والے
(اپ ڈیٹ) راہل گاندھی کی لوگوں سے وزیراعظم کی رہائش گاہ پہنچنے کی اپیل ، بات چیت کے لئے پہنچے جتیندر سنگھ


نئی دہلی، 21 جولائی (ہ س) منگل کو کانگریس پارٹی نے طلبہ پرلاٹھی چارج اور طاقت کے استعمال کے خلاف وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کرکے احتجاج کیا۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اس پروگرام میں شرکت کی اور عوام سے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہونے والے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی۔

راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ طلبہ پر حملہ ہر ہندوستانی خاندان پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا خیال ہے کہ وہ جواب دئیے بغیر یا نتائج کا سامنا کیے بغیر فرار ہو سکتے ہیں — لیکن وہ اس بار ایسا نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، میں ہر محب وطن ہندوستانی سے اپیل کرتا ہوں جو یہ مانتا ہے کہ ہمارے طلبہ انصاف کے مستحق ہیں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر ہمارے دھرنے میں شامل ہوں۔ ہندوستان کے طلبہ کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس دوران مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ حکومت کی جانب سے احتجاجی مقام پر بات چیت کے لیے پہنچے اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی سے بات کی۔ مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن بھی ان کے ساتھ تھے۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور دیگر لیڈروں نے لوک کلیان مارگ پر دھرنا دیا۔ احتجاج کے دوران وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ پولیس نے مظاہرے کے دوران کئی کانگریسی کارکنوں کو حراست میں بھی لیا۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ کانگریس پارٹی طلبہ کے حقوق اور ان کے جائز مطالبات کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دے رہی ہے اور حکومت کو طلباء کے خلاف مبینہ لاٹھی چارج اور طاقت کے استعمال کا جواب دینا چاہیے۔ کھرگے نے الزام لگایا کہ حکومت نے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے اور وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے استعفیٰ کا مطالبہ دہرایا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس طلباء کے خلاف مبینہ بربریت کے بارے میں جواب مانگنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نہ تو اس معاملے میں جوابدہی قبول کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی اس موضوع پر پارلیمنٹ میں بحث ہونے دینا چاہتی ہے۔ راہل گاندھی نے زور دے کر کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کے لیے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ کانگریس ایم پی جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم کو اپنی خاموشی توڑنی چاہئے اور وزیر داخلہ کو بیان جاری کرنا چاہئے۔

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستییسن، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا، پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا، اور کانگریس کے دیگر اراکین پارلیمنٹ نے احتجاج میں حصہ لیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر احتجاج کرنے والے کئی کانگریسی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ اس احتجاج کے ذریعے، کانگریس کے رہنماؤں نے- جس میں پنجاب کے سابق وزیر اعلی چرنجیت سنگھ 'چنی' بھی شامل ہیں، نے طلباء سے متعلق مسائل کے بارے میں حکومت سے جوابدہی کا مطالنبہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے طلبہ کے خلاف مبینہ لاٹھی چارج اور طاقت کے استعمال کی مخالفت کے لیے اس احتجاج کا اہتمام کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande