لاتور میں دو نقب زنی وارداتوں کا معمہ حل، شاطر بدمعاش گرفتار
لاتور، 21 جولائی (ہ س): مہاراشٹر کے ضلع لاتور میں جرائم پر قابو پانے کے لیے جاری خصوصی مہم کے دوران مقامی کرائم برانچ کو اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ کاسار شیرسی پولیس اسٹیشن میں درج نقب زنی کے ایک مقدمے کا معمہ حل کرتے ہوئے پولیس نے ایک عادی ملزم
CRIME MAHA TWO BURGLARY CASES SOLVED


لاتور، 21 جولائی (ہ س): مہاراشٹر کے ضلع لاتور میں جرائم پر قابو پانے کے لیے جاری خصوصی مہم کے دوران مقامی کرائم برانچ کو اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ کاسار شیرسی پولیس اسٹیشن میں درج نقب زنی کے ایک مقدمے کا معمہ حل کرتے ہوئے پولیس نے ایک عادی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کے قبضے سے ایک لاکھ 35 ہزار روپے مالیت کا مسروقہ مال برآمد کیا گیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے نہ صرف کاسار شیرسی پولیس اسٹیشن حدود میں نقب زنی واردات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا بلکہ اوراد شاہاجنی پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آنے والی ایک اور نقب زنی واردات میں بھی اپنے ملوث ہونے کی معلومات دی ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ کارروائی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس امول تامبے کی ہدایات پر، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منگیش چوہان کی نگرانی اور مقامی کرائم برانچ کے پولیس انسپکٹر سدھاکر باوکر کی قیادت میں انجام دی گئی۔ پولیس کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ایک مشتبہ شخص کلاری۔عمرگہ روڈ پر دریا کے قریب واقع ایک ہوٹل کے سامنے آنے والا ہے۔ اطلاع کی بنیاد پر پولیس ٹیم نے مذکورہ مقام پر جال بچھایا اور کارروائی کرتے ہوئے بالاجی شیواجی کالے، عمر 43 سال، ساکن ساٹھے چوک، عثمان آباد کو حراست میں لے لیا۔

پولیس نے ملزم کی تلاشی لی تو اس کے قبضے سے مختلف اقسام کے سونے کے زیورات اور 10 ہزار روپے نقد برآمد ہوئے۔ برآمد شدہ مال میں مختلف ڈیزائن کی سونے کی انگوٹھیاں، منی، پان، منگٹی، پیپل پان سمیت دیگر طلائی زیورات شامل ہیں۔ نقد رقم سمیت برآمد شدہ تمام سامان کی مجموعی مالیت ایک لاکھ 35 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ دوران تفتیش ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر کاسار شیرسی پولیس اسٹیشن میں درج گھربھیدی کے مقدمے کو انجام دینے کا اعتراف کیا۔ مزید پوچھ گچھ میں اس نے اوراد شاہاجنی پولیس اسٹیشن میں درج ایک اور گھربھیدی کے مقدمے میں بھی اپنے ملوث ہونے کا انکشاف کیا۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ چوری کیے گئے بعض طلائی زیورات دھاراشیو کے چند سناروں کو فروخت کیے گئے تھے۔ پولیس اس سلسلے میں مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ فروخت کیے گئے زیورات کی بازیابی، دیگر ملوث افراد کی شناخت اور چوری کے نیٹ ورک سے متعلق مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں کاسار شیرسی میں پیش آنے والی گھربھیدی کی واردات کا معمہ حل ہو گیا ہے، جبکہ تفتیش کے دوران مزید املاک سے متعلق جرائم کے بھی بے نقاب ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

گرفتار ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے کاسار شیرسی پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں اس سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے اور پولیس اس کے دیگر ساتھیوں اور مزید وارداتوں میں ممکنہ کردار کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande