آسام میں سیلاب کا قہر برقرار، ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی، 11 اضلاع کے 3.13 لاکھ سے زائد افراد متاثر
گوہاٹی، 21 جولائی(ہ س)۔آسام میں سیلاب کی صورتحال بدستور سنگین ہے۔ ریاست میں سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی ہے، جبکہ 11 اضلاع کے 3.13 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔پڑوسی پہاڑی ریاستوں، خصوصاً ناگالینڈ میں مسلسل موسلادھار بارش
آسام میں سیلاب کا قہر برقرار، ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی، 11 اضلاع کے 3.13 لاکھ سے زائد افراد متاثر


گوہاٹی، 21 جولائی(ہ س)۔آسام میں سیلاب کی صورتحال بدستور سنگین ہے۔ ریاست میں سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی ہے، جبکہ 11 اضلاع کے 3.13 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔پڑوسی پہاڑی ریاستوں، خصوصاً ناگالینڈ میں مسلسل موسلادھار بارش اور بادل پھٹنے کے واقعات کے باعث اچانک آنے والے سیلاب نے آسام کی کئی اہم ندیوں کو خطرے کی سطح سے اوپر پہنچا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں معمولاتِ زندگی درہم برہم ہوگئیں، اور امدادی و ریسکیو کارروائیاں جنگی بنیادوں پر جاری ہیں۔آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میںچرائی دیو، شیوساگر اور جورہاٹ شامل ہیں۔ صرف شیوساگر ضلع میں تقریباً 1.58 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ریاست بھر میں 794 دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں، جبکہ 19,099 ہیکٹر سے زائد زرعی زمین سیلابی پانی میں ڈوب گئی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 5.97 لاکھ مویشی اور پولٹری بھی متاثر ہوئے ہیں، جس سے دیہی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔اے ایس ڈی ایم اے کے مطابق برہم پتر ندی نمیتی گھاٹ، بُوڑھی دیدھنگ ندی کھووانگ، دیکھو ندی شیوساگر، دیسانگ ندی نانگلامورا گھاٹ، جبکہ دھنسری ندی گولاگھاٹ اور نومالی گڑھ میں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ مسلسل بڑھتے ہوئے پانی کے باعث نشیبی علاقوں میں سیلاب اور کٹاؤ کی صورتحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔

سیلاب نے سڑک اور ریل ٹریفک کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ناجرا–گیلےکی سڑک کا ایک بڑا حصہ بہہ جانے سے شیوساگر اور ناجرا کے درمیان سڑک رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے۔ اسی طرح تیاک کے قریب قومی شاہراہ 715 زیرِ آب آنے سے آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔

ریلوے خدمات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔سملوگوڑی ریلوے اسٹیشن کے یارڈ اور ریلوے پٹریوں پر پانی بھر جانے کے باعث شمال مشرقی سرحدی ریلوے نے 30 سے زائد ٹرینیں منسوخ، متبادل راستوں پر منتقل یا مختصر روٹ تک محدود کر دی ہیں، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ریاستی انتظامیہ کی جانب سے امدادی اور بچاؤ کی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ فوج، فضائیہ، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس(ایس ڈی آر ایف) اور فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ریاستی حکومت نے اب تک 52 امدادی کیمپ اور امدادی مراکز قائم کیے ہیں، جہاں 12,720 سے زائد بے گھر افراد کو رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔انتظامیہ نے دریاؤں کے کنارے اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محتاط رہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande