
علی گڑھ، 21 جولائی (ہ س)۔
دہلی کے جنتَر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ پر پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران لاٹھی چارج کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے متعدد طلبہ نے کیمپس کے ڈک پوائنٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ طلبہ نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لہٰذا احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ پیش آئے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
احتجاج کے بعد طلبہ نے صدرِ جمہوریہ ہند کے نام ایک عرضداشت اے ایم یو کی پراکٹر ٹیم کو پیش کی۔ عرضداشت میں کہا گیا کہ اے ایم یو کے طلبہ انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت جیسے آئینی اقدار پر یقین رکھتے ہیں اور ہمیشہ پُرامن جمہوری جدوجہد اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ اس موقع پر طلہ لیڈر فیصل تیاگی اور دیگر سینئر لیڈران نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کل سے پہلے جس طرح خاموشی اختیار کررکھی تھی اسی کا نتیجہ ہے کہ طلبا کو اس طرح احتجاج درج کرانا پڑا، طلبا نے کہا کہ جس طرح ہماری آواز کو دبنانے کی کوشش کی گئی ہے وہ نا قابل برداشت ہے،تاریخ گواہ ہے کہ جب جب آوازوں کو دبایا گیا ہے وہ اور زیادہ مضبوطی سے بلند ہوئی ہیں۔
عرضداشت میں 20 جولائی کو جنتَر منتر پر پُرامن احتجاج کرنے والے شہریوں اور طلبہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ سونم وانگچک اور ابھیجیت دیپکے کی جانب سے اٹھائے گئے عوامی مسائل کو جمہوری انداز میں پیش کرنے کے حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ طلبہ کے پُرامن مظاہرہ پر طاقت کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اختلافِ رائے کا جواب طاقت کے بجائے مکالمے کے ذریعے دیا جائے۔
طلبہ نے رام پور کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کو جاری انہدامی نوٹس پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے قوم کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسی کسی بھی کارروائی سے قبل قانونی تقاضوں، شفافیت اور ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ عرضداشت میں مطالبہ کیا گیا کہ شہریوں کے پُرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کے آئینی حق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، مظاہرین کے ساتھ ناروا سلوک کی قانونی اور شفاف جانچ کرائی جائے، تعلیمی اداروں کے خلاف کسی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی میں مکمل قانونی عمل کی پابندی کی جائے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔ طلبہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک مضبوط جمہوریت وہی ہوتی ہے جہاں پُرامن آوازوں کو دبایا نہیں بلکہ سنا جاتا ہے، کیونکہ انصاف جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے اور تعلیم قوم کو طاقت بخشتی ہے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں طلبا وطالبات موجود رہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ